انجینئر حمید حسین طوری کا پارا چنار میں دہشت گردی کے واقعات پر قومی اسمبلی میں تشویش کا اظہار

18 فروری, 2025 19:23

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی لیڈر و رکن قومی اسمبلی ضلع کرم، انجینئر حمید حسین طوری نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پارا چنار جانے والے اشیاء خوردونوش کے قافلے پر حملہ افسوس ناک اور انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹل پارا چنار قومی شاہراہ پچھلے پانچ ماہ سے بند ہے اور روڈ پر کانوائے کا فیصلہ سکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کا مشترکہ فیصلہ ہوتا ہے، اس لیے سکیورٹی کی ذمہ داری بھی ان کی بنتی ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں دہشت گرد کانوائے میں موجود ٹرکوں کو لوٹتے ہیں اور گاڑیوں کو جلاتے ہیں، ڈرائیورز کو بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے، لیکن موقع پر موجود انتظامیہ کے اہلکار انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ سب دہشت گردانہ کارروائیاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی اہل بیتؑ اسمبلی ایران کا پاکستانی منقبت خوانوں کی شہادت پر دلی افسوس

انہوں نے کہا کہ میرا ریاست سے سوال ہے کہ حکومتی رٹ کہاں ہے اور ریاستی ادارے کہاں ہیں؟ سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں نقاب پوش لوٹ مار کر رہے ہیں، لیکن سب تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس انداز سے کیا پیغام اور تاثر دیا جا رہا ہے؟ پیٹرول اور ڈیزل ناپید ہیں، گزشتہ اور آنے والی فصل نہیں بوئی جا سکی، جس کے علاقے کی عوام پر شدید اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج ہم نے کشمیریوں کی ہندوستان سے آزادی اور ان کی حمایت میں قرارداد پاس کی ہے، جو کہ بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز بلند کریں، چاہے وہ کشمیری ہوں یا فلسطینی۔ لیکن پارا چنار کرم کا علاقہ گزشتہ پانچ ماہ سے محاصرے کا شکار ہے اور راستوں کی بندش سے اب تک سینکڑوں معصوم شہریوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ پیٹرول چودہ سو روپے لیٹر اور چینی پندرہ ہزار روپے فی بوری مشکل سے میسر ہے، دوائیاں ناپید ہیں۔ یہ غیر آئینی سلوک اور رویہ کیوں روا رکھا جا رہا ہے؟ کیا یہ محب وطن پاکستانی نہیں ہیں اور اس مادر وطن کا حصہ نہیں ہیں؟ اس پر سب ارباب اختیار چپ کیوں سادھے ہوئے ہیں اور کرم پارا چنار کے امن و امان کو ترجیح بنیادوں پر حل کیوں نہیں کیا جا رہا؟

انہوں نے کہا کہ کشمیر جو بھارتی تسلط کا شکار ہے، اسے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش ہو رہی ہے، لیکن جو حساس علاقے سنگین صورتحال سے دوچار ہیں اور وہاں کی عوام میں ریاست کی بے حسی پر شدید احساس محرومی کا شکار ہیں، ان کے مسائل اور مشکلات کا حل نہیں نکالا جاتا۔ یہ کہاں کی دانشمندی اور حب الوطنی ہے؟

4:26 صبح اپریل 8, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔