ایک گھنٹے میں پارہ چنار کے راستے کھولنے والے صوبائی عہدیدار اب کیوں چپ ہیں؟ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
شیعیت نیوز: چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ضلع کرم بگن میں ڈپٹی کمشنر پر فائرنگ کے بعد دوسرے روز بھی پاراچنار کے لیے امدادی سامان کا قافلہ روانہ نہ ہونا تشویشناک ہے۔ امن جرگہ کی کامیابی کے بعد ایک گھنٹے میں راستے کھولنے کا دعویٰ کرنے والے صوبائی عہدیدار اب کیوں خاموش ہیں؟ تین ماہ سے محصور پاراچنار کے عوام خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی کمی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ خواتین، بچوں، اور بزرگوں سمیت پورا علاقہ انتہائی تکلیف دہ حالات سے گزر رہا ہے۔ آخر پاراچنار کی محب وطن عوام کو کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: لشکر جھنگوی کے ملعون قاری کی معصوم بچے کے ساتھ زیادتی
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مزید کہا کہ اس سنگین صورتحال کی بدولت ملکی عزت و وقار بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ریاست ایک سڑک کو دہشت گردوں سے محفوظ بنانے میں ناکام اور بے بس نظر آ رہی ہے۔ لہذا علاقے کو بڑے انسانی المیے سے بچانے کے لیے ہر لمحہ قیمتی ہے۔ امدادی سامان پر مشتمل گاڑیوں کے قافلے کو فوراً پاراچنار پہنچایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ فوری اور ضروری عملی اقدامات کرے تاکہ اشیائے خوردونوش کے بروقت پہنچنے سے عوام کو ریلیف مل سکے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے سنی اور شیعہ عمائدین کے دستخط شدہ معاہدے پر فوری عملدرآمد کیا جائے اور معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے مٹھی بھر شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔







