تکفیری ناصبی مولوی عبدالقیوم کی گمراہی اور رسول ﷺ کی سنت کی توہین
شیعیت نیوز: متعصب اور بے بنیاد الزامات لگانے والے مولوی عبدالقیوم نے اپنی تقریر میں متعہ جیسے جائز اسلامی عمل کو بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔ اس نے نہ صرف اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو مسخ کیا بلکہ قرآن مجید کی واضح تعلیمات کے خلاف اپنی بے بنیاد باتوں سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ مولوی عبدالقیوم کا یہ عمل حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کی توہین اور اسلامی اصولوں کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے، جس کے ذریعے وہ صرف تعصب، نفرت اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہر حلال عمل کو ہر معاشرہ یا ہر فرد اختیار کرے، یہ ضروری نہیں۔ کئی حلال افعال ایسے ہیں جو مختلف معاشروں میں مختلف حالات کی بنا پر اختیار نہیں کیے جاتے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ افعال غلط یا ناجائز ہیں۔ مولوی عبدالقیوم کی باتیں سوائے نفرت، تعصب اور گمراہی کے اور کچھ نہیں کہلاتیں۔ اس کا مقصد صرف اسلامی امت میں انتشار اور تفرقہ ڈالنا ہے۔
پہلا تضاد: عورت کے حقوق کی نفی
مولوی عبدالقیوم نے دعویٰ کیا کہ متعہ میں عورت کو کوئی حق مہر نہیں دیا جاتا۔ یہ سراسر جھوٹ ہے اور اسلامی تعلیمات سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔ قرآن مجید کی سورہ نساء کی آیت نمبر 24 میں متعہ کا ذکر موجود ہے:
"تو ان عورتوں سے جن سے تم متعہ کرو، انہیں ان کا مقررہ مہر ادا کرو۔”
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ متعہ میں حق مہر عورت کا شرعی حق ہے، اور اسے ادا کرنا واجب ہے۔ مولوی عبدالقیوم کا یہ دعویٰ کہ عورت کو حق مہر نہیں ملتا، قرآن کی کھلی مخالفت ہے اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
دوسرا تضاد: سنت رسول خدا ﷺ کو دور جاہلیت کا عمل قرار دینا
مولوی عبدالقیوم نے متعہ کو دورِ جاہلیت کا عمل کہا، جب کہ تاریخ اسلام تمام مسالک میں بھری پڑی ہے کہ یہ حکم رسول خدا ﷺ کی طرف سے تھا اور وحی الٰہی کے حکم سے جائز قرار دیا گیا۔ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی وحی کے بغیر کوئی بات نہیں فرمائی۔ اسے دور جاہلیت کا فعل قرار دینا رسول خدا ﷺ کی توہین ہے، کیونکہ یہ عمل رسول خدا کے دور میں شروع ہوا تھا نہ کہ اس سے پہلے دور جاہلیت میں۔
تیسرا تضاد: صحابہ کی توہین
مولوی عبدالقیوم اہل بیت علیہ السلام کے بغض میں متعہ کے حوالے سے ایسی باتیں کی ہیں جو خود اس کے اپنے مانے ہوئے صحابہ کے بارے میں بھی لاگو ہوتی ہیں۔ کیونکہ تاریخ میں موجود ہے کہ حضرت ابو بکر کی بیٹی اسماء بنت عمیس نے زبیر بن عوام سے متعہ کیا تھا، اور ان سے عبداللہ بن زبیر پیدا ہوئے۔
مولوی کا یہ بیانات دراصل ان صحابہ کی توہین ہے جن کا وہ بعض اوقات اہل بیت سے زیادہ احترام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایک چوری اوپر سے سینہ زوری، کالعدم سپاہ صحابہ کی پاراچنار مسئلہ پر حکومت کو دھمکیاں
چوتھا تضاد: کسی ملک کو مسلکی نگاہ سے دیکھنا
ایران میں چونکہ زیادہ آبادی شیعوں کی ہے اس وجہ سے اس مولوی کے پاس بھڑاس نکالنے کا کوئی اور راستہ موجود نہیں۔ اس نے ایران کے حوالے سے بے بنیاد الزامات لگائے کہ وہاں لاکھوں بچوں کو ان کے والدین کا علم نہیں۔ کسی ملک یا معاشرے کو مسلکی نگاہ سے دیکھنا سوائے نفرت کے کچھ نہیں۔ ایران کے حوالے سے دنیا کے مسلمانوں کے دل میں ایک احترام موجود ہے کیونکہ وہ ہمیشہ مظلومین کا دفاع کرتا ہے۔ اس منافق مولوی نے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے جھوٹے الزامات کا سہارا لیا۔
یہ الزام سراسر جھوٹ اور تعصب پر مبنی ہے۔
متعہ کی شرعی حیثیت اور تاریخی حقائق
متعہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے جائز قرار دیا تھا، اور اہل سنت کی مستند کتب میں اس کے جواز کے حوالے موجود ہیں۔ صحابہ کرام نے بھی اس پر عمل کیا، اور اس کی حیثیت ہمیشہ ایک شرعی عمل کے طور پر تسلیم کی گئی۔ اہل سنت کی مستند کتابوں میں موجود ہے کہ رسول خدا ﷺ اور حضرت ابوبکر کے دور تک یہ موجود رہا لیکن بعد میں حضرت عمر نے اسے حرام قرار دے دیا۔
یہ کہنا کہ کسی دور میں کسی عمل کو انجام نہ دینا اس عمل کی شرعی حیثیت کو ختم کر دیتا ہے، بالکل غلط ہے۔ کسی عمل کا نہ کیا جانا اس کی شرعی حیثیت کو ختم نہیں کرتا، اور نہ ہی اسے زنا کے برابر قرار دیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ
مولوی عبدالقیوم اپنی تقریر میں رسول اللہ ﷺ کی سنت کی توہین، صحابہ کی عزت کو مجروح کرنے اور اسلامی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے بیانات جھوٹ، تعصب، اور نفرت پر مبنی ہیں۔ ایسے افراد کا مقصد امت مسلمہ میں انتشار پھیلانا اور اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچانا ہے۔ مسلمانوں کو ایسے افراد کی گمراہ کن باتوں سے خبردار رہنا چاہیے اور اسلامی تعلیمات کو صحیح طریقے سے سمجھنا اور پھیلانا چاہیے۔







