اسرائیل مشرق وسطیٰ میں امریکی طاقت کا ستون ہے، سید ناصر عباس شیرازی
شیعیت نیوز : مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیراہتمام مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر آن لائن سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
سید ناصر عباس شیرازی نے مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام ایک قدیم عالمی تہذیب و ثقافت کا حامل ملک ہے۔
شام کی اسرائیل کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے ملک پر مسلح گروہوں کی طرف سے بار بار حملے کیے جاتے رہے ہیں تاکہ اسرائیل کی سرحدوں کے قریب کوئی بھی ہمسایہ دفاعی طور پر مضبوط نہ ہو۔
بشار الاسد داعش کے دہشت گردانہ حملوں کو کامیابی سے شکست دینے میں کامیاب رہے۔
لیکن 14 ماہ تک جاری رہنے والی اسرائیل غزہ جنگ کے دوران بشار الاسد کی خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان تھی۔
اس عرصے میں اسرائیل نے شام پر کئی حملے کیے لیکن شامی حکومت نے نہ صرف ان حملوں کا جواب نہیں دیا بلکہ ایران اور حزب اللہ کے لیے جگہ بھی محدود کر دی۔
یہ بھی پڑھیں : آرمی چیف پاراچنار کی صورت حال کا ازخود نوٹس لیں، علامہ مقصود ڈومکی کا مطالبہ
امریکہ اور اسرائیل کے اشارے پر ترکی نے ادلب میں مسلح گروہوں کو مکمل تربیت دی اور ان سے لیس کیا۔
اس صورت حال میں شام کے اتحادیوں نے کچھ نہیں کیا کیونکہ بشار الاسد نے خود شکست تسلیم کر لی تھی۔
امریکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی کھل کر حمایت کرتا ہے کیونکہ اسرائیل خطے میں امریکی طاقت کا ستون ہے۔
امریکہ جانتا ہے کہ اگر اسرائیل کو مکمل طور پر شکست دی گئی تو یہ ایک تباہ کن امریکی شکست ہوگی اور امریکہ مشرق وسطیٰ سے غائب ہو جائے گا۔
شام کے مسلح گروہ جشن منانے میں مصروف ہیں اور شام کو استحکام حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو اس پورے صیہونی منصوبے کا بنیادی مقصد ہے۔







