وفاقی حکومت پارہ چنار میں دہشتگردانہ کارروائی کے ذمہ داران کو قانونی کٹہرے میں لائے، جعفریہ سپریم کونسل مظفر آباد

22 نومبر, 2024 13:37

شیعیت نیوز: جعفریہ سپریم کونسل جموں و کشمیر پاکستان کے چیئرمین سید زوار حسین نقوی ایڈووکیٹ نے پشاور سے پاراچنار جانے والے قافلے پر ضلع کرم میں اوچت کے مقام پر گاڑیوں پر فائرنگ کرکے نہتے اور پرامن اہل تشیع شہریوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ: "دکھ کی اس گھڑی میں ملت جعفریہ آزاد کشمیر آپ کے غم میں شریک ہے۔”

یہ بھی پڑھیں: ضلع کرم کے شہید مسافروں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے: علامہ ساجد نقوی

سید زوار حسین نقوی نے دہشت گردی کے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحے کا ذمہ دار خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ: "صوبہ میں امن و امان قائم کرنا اور شاہراہوں کو دہشت گردوں سے محفوظ بنانا بنیادی طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ متعلقہ اداروں کو بھی اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دینے کی ضرورت ہے۔”

انہوں نے اپنے بیان میں دو دن قبل خیبر پختونخوا کے جانی خیل کے مقام پر پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی مذمت کی اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

سید زوار حسین نقوی نے کہا کہ: "صوبائی حکومت مسلسل سیاسی مفادات میں مصروف ہے اور امن و امان کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی۔ شہریوں کی جان و مال مسلسل خطرے میں ہیں، اور اگر حکومت امن بحال کرنے میں ناکام ہے تو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں سے مدد لینی چاہیے۔”

انہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کے تحفظ کے لیے آئین میں ترامیم ہو سکتی ہیں تو امن و امان کی بحالی کے لیے بھی وفاقی سیکیورٹی اداروں کو خصوصی اختیارات دیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی، فرقہ وارانہ کشیدگی، اور لسانی و نسلی تعصبات کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشاورت کے ذریعے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا وقت آ چکا ہے۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے خیبر پختونخوا کی پختون اور مذہبی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کریں اور دہشت گردی و فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے میں کردار ادا کریں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوچت میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے ذمہ داران کو قانونی کٹہرے میں لایا جائے اور شہداء و زخمیوں کے لواحقین کو معقول معاوضہ دیا جائے۔

10:35 صبح مارچ 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔