سانحہ پارہ چنار !قافلہ بڑا اور حفاظت پر مامور افراد کم ہیں !عینی شاہدین نے واقعہ سے قبل پولیس کو نشاندہی بھی کی تھی

21 نومبر, 2024 16:59

شیعیت نیوز:پارہ چنار میں کانوائے پر حملہ میں 80 مومنین شہید ہوگئے۔

سعیدہ بانو پشاور میں ملازمت کرتی ہیں وہ بھی اس قافلے میں شامل تھیں۔

انoوں نے صحافی زبیر خان کو بتایا کہ ’جب پشاور سے پاڑہ چنار کی حدود میں داخل ہو رہے تھے تو اس وقت میں نے اپنی گاڑی سے اتر کر سکیورٹی فورسز سے کہا کہ ’قافلہ بڑا ہے اور سکیورٹی اہلکار کم ہیں مگر مجھے کہا گیا کہ گاڑی میں بیٹھ جاؤ سب ٹھیک ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں قافلے کے درمیان میں تھی۔

پہلے مجھے ایسے لگا کہ گاڑیوں کے قافلے کے پیچھے سے فائرنگ کا آغاز ہوا ہے۔

اس کے بعد مجھے لگا کہ میرے سامنے بھی فائرنگ ہو رہی ہے۔ اس موقع پر میں نے اپنے بچوں کو گاڑی کی سیٹ کے نیچے کر دیا تھا۔ کئی منٹ تک ہر طرف سے فائرنگ ہوتی رہی تھی۔‘

سعیدہ بانو کا کہنا تھا کہ ’مجھے لگا کہ آج میں بچوں سمیت ماری جاؤں گی۔

یہ بھی پڑھئیے: حکومت پارہ چنار واقعہ کو قومی سانحہ قرار دیکر شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشنل کمیشن بنائے ،علامہ احمد اقبال رضوی کا مطالبہ

مگر قافلے کے درمیان میں گاڑیوں کو زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ وہ گاڑیاں جو شروع اور آخر میں تھیں وہ براہ راست ٹارگٹ تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب فائرنگ ختم ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ہر طرف زخمی اور لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

کوئی چیخ رہا تھا اور کوئی ہلاک ہو چکا ہے۔

اس موقع پر کچھ لوگوں نے زخمیوں کی مدد کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔‘

سعیدہ بانو کا کہنا تھا کہ اس قافلے میں شاید ایک خاتون ڈاکٹر یا نرس تھی اور وہ دوڑ دوڑ کر زخمیوں کی مدد کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔‘

11:15 صبح مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔