تاریخ کاسیاہ ترین دن!محافظ بچ گئے مسافر مارے گئے:پتا نہیں فائرنگ کہاں سے ہوئی ، ایف سی اہلکار کا بیان

21 نومبر, 2024 16:51

شیعیت نیوز؛ فائرنگ کا نشانہ بننے والے قافلے کی حفاظت پر مامور ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار افتخار خان کو بتایا کہ ’ہم پانچ سے چھ اہلکار تھے، پتا نہیں چلا کہ فائرنگ کہاں سے ہوئی۔

عینی شاہدین اور کرم پولیس کے مطابق ’قافلے پر تین مختلف علاقوں میں مورچے لگا کر فائرنگ کی گئی اور کم از کم چودہ کلومیٹر کے علاقے میں قافلے پر فائرنگ ہوتی رہی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں فائرنگ ہوئی ان میں مندوری، بھگن اور اوچھات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئیے: حکومت پارہ چنار واقعہ کو قومی سانحہ قرار دیکر شفاف تحقیقات کیلئے جوڈیشنل کمیشن بنائے ،علامہ احمد اقبال رضوی کا مطالبہ

عینی شاہد نصیر خان نے بتایا کہ قافلے میں شامل بچ جانے والی گاڑیاں جب ایک علاقے سے نکل کر دوسرے علاقے میں جاتیں تو پھردوسرے علاقے میں ان پر فائرنگ کی جاتی تھی۔ یہ سلسلہ ان تین علاقوں تک جاری رہا تھا۔

یاد رہے اسے قبل 12 اکتوبر کو اپر کرم کے علاقے کونج علیزئی میں ہوئے مسافر ویگن قافلے پر حملے کے نتیجے میں 15 افراد کی ہلاکت کے بعد سے پاڑہ چنار، پشاور روڈ ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند تھی۔

3:05 صبح مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔