بھارتی مظالم سے 36 سال میں 922 کشمیری بچے شہید: رپورٹ جاری

20 نومبر, 2024 12:46

شیعیت نیوز: مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے گزشتہ 36 سال کے دوران ریاستی دہشت گردی کی بدترین کارروائیوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، جن میں 922 معصوم بچوں کو شہید کیا گیا۔

آج عالمی یوم اطفال کے موقع پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ کشمیر میں بچے بھارتی فوجی جبر کا سب سے زیادہ شکار رہے ہیں۔ یہ 922 بچے یکم جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید کیے جانے والے 96 ہزار 382 کشمیریوں میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی فوج اور پولیس کی کاروائیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر میں 107,974 بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ بھارتی فورسز کی پیلٹ گنز اور فائرنگ سے زخمی ہونے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد بینائی سے محروم ہو چکی ہے۔

متاثرین میں کم عمر بچے شامل ہیں جن میں 19 ماہ کی حبہ جان، 4 سالہ زہرہ مجید، 8 سالہ آصف رشید، 8 سالہ اویس احمد، 10 سالہ آصف احمد شیخ، اور 13 سالہ میر عرفات کے نام قابل ذکر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بچوں کی نسل کشی لمحہ فکریہ ہے : علامہ سید ساجد نقوی

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے کشمیری بچوں کو جبر و استحصال کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاری کے دوران بچوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی حراست میں لیا گیا، جنہیں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ معروف خواتین رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، اور فہمیدہ صوفی سمیت تین درجن سے زائد ماؤں کی نظربندی نے ان کے بچوں کو شدید اذیت اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ یہ بچے اپنی ماؤں کی رہائی کے منتظر ہیں۔

رپورٹ میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیری بچوں کے حقوق کی پامالی کا نوٹس لیں اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔

11:43 صبح مارچ 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔