تکفیری خارجیوں کے پیشوا طالبان کا منافقانہ چہرہ بے نقاب: اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار

11 نومبر, 2024 18:43

شیعیت نیوز: افغان طالبان نے حالیہ انٹرویو میں اسرائیل سے متعلق ایسا مؤقف اپنایا ہے جس نے ان کے اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں طالبان کا کہنا تھا کہ انہیں اسرائیل سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور وہ اسے تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مزید برآں، طالبان نے امریکی ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعاون میں دلچسپی کا بھی اظہار کیا ہے۔

یہ وہی طالبان ہیں جو ہمیشہ امت مسلمہ اور اسلام کے نام پر بلند و بانگ دعوے کرتے تھے اور دین کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ لیکن آج فلسطین کے مظلوم بچوں کا خون ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ وہ خارجی ہیں جو چودہ سو سال سے مسلمانوں کے اندر گھس کر دین کے نام پر فتنہ پھیلاتے آئے ہیں۔ اسلامی حکومت کے دعوے دار آج اپنے مفادات کی خاطر اسرائیل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، اور یہ بات ثابت کرتی ہے کہ ان کے نزدیک دین اور امت سے زیادہ ذاتی مفادات اہمیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لشکر جھنگوی کا دہشتگرد گستاخ ملزم احسن باکسر افغانستان فرار، وکیل کو قتل کی دھمکیاں

پاکستان میں طالبان کے حامی خارجی تکفیری اور وہابی کلعدم گروہ، جیسے لشکر جھنگوی، جو طالبان کو دین کا علمبردار اور اپنا "باپ” سمجھتے ہیں، ان کی حقیقت بھی یہی ہے۔ ان کا مقصد بھی مسلمانوں کی رہنمائی نہیں، بلکہ صرف اپنے مفادات کے لیے فساد پھیلانا ہے۔ ان گروہوں کی حمایت میں جو طالبان کا تعارف کرایا جا رہا ہے، وہ دراصل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ تمام عناصر اپنے آپ کو دین و امت کے محافظ کے طور پر پیش کرنے کے باوجود، دراصل فتنہ و فساد کی بنیاد ہیں۔

طالبان کا یہ بیان مسلمانوں میں فریب اور دوغلے پن کی بدترین مثال ہے۔ ان کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کا عندیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے دعوے کھوکھلے ہیں اور ان کے اعمال امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتے۔

1:06 شام مارچ 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔