یومِ اقبال پر ایران میں شاعر مشرق کو خراج تحسین، تہران کی شاہراہوں پر علامہ اقبال کے بینرز آویزاں
شیعیت نیوز: 9 نومبر کو دنیا بھر میں شاعر مشرق، ڈاکٹر علامہ اقبال کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے ایران میں بھی اردو حلقوں اور مختلف مراکز میں پروگرامات کا انعقاد کیا گیا ہے۔
یومِ اقبال کی مناسبت سے تہران کی شاہراہوں پر علامہ اقبال کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ان کے اشعار اور تصاویر پر مبنی بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ ایران میں علامہ اقبال کو ان کی فارسی شاعری اور ایران سے خاص تعلق کی وجہ سے انتہائی قدر و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ علامہ اقبال ایران کبھی نہیں گئے، تاہم ان کی زیادہ تر شاعری فارسی زبان میں ہونے اور ایران کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی وجہ سے ایرانی قوم انہیں اقبال لاہوری کے نام سے جانتی ہے۔ ان کی فارسی شاعری نے ایرانی معاشرے پر گہرا اثر ڈالا ہے، اور ایران میں ایسے کئی مقامات ہیں جو علامہ اقبال کے نام سے منسوب ہیں۔ ایرانی قوم لاہور کو بھی علامہ اقبال کی نسبت سے جانتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر حماس کا موقف سامنے آگیا
علامہ اقبال نے کل بارہ ہزار اشعار کہے، جن میں سے سات ہزار فارسی میں ہیں۔ ان کی شاعری میں انقلاب ایران کی پیش گوئی بھی موجود ہے، جیسے کہ ان کا مشہور شعر:
"می رسد مردی کہ زنجیر غلامان بشکند، دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما”
یعنی "میں زندان کی سلاخوں کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوں کہ ایک مرد آ رہا ہے جو تمہیں غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرائے گا۔”
ایرانی اس شعر کو حضرت امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی پیشگوئی سے منسلک کرتے ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ایران میں حضرت اقبال کو احترام اور عظیم شخصیت کے طور پر مانا جاتا ہے۔







