پاراچنار سے پشاور جانے والی شیعہ مسافر گاڑیوں پر 2008 سے 2024 تک ہونے والے دہشتگردانہ حملے اور شہادتیں

17 اکتوبر, 2024 22:15

شیعیت نیوز

26 مارچ 2008ء:
فاٹا کے لوئر کرم علاقے میں مسلح افراد نے ایک سرکاری ایمبولینس پر گھات لگا کر راکٹوں اور بھاری مشین گنوں کا استعمال کرتے ہوئے حملہ کیا، جس میں 2 خواتین سمیت 7 افراد شہید اور 2 دیگر زخمی ہوئے۔ ایمبولینس پاراچنار سے پشاور جا رہی تھی کہ چپھری چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔ مقتولین کا تعلق طوری قبیلے سے تھا۔ شہید ہونے والوں میں کیڈٹ کالج رزمک کا ایک طالب علم، ایک لیڈی ہیلتھ ورکر اور دو لیویز اہلکار شامل تھے۔

19 جون 2008ء:
پیر قیوم، صدہ کے مقام پر کرنل مجید اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ لوئر کرم عطاء الرحمن کی سربراہی میں پاراچنار جانے والے مسافر قافلے کو طالبان، لشکرِ جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے حوالے کیا گیا۔ ان درندوں نے ان میں سے 4 افراد کو زندہ جلایا، باقی افراد کو نہایت بے دردی سے پتھر، اینٹ اور لوہا کاٹنے والی مشین "بالینڈر” اور "آرے کی مشین” سے ان کے سر قلم کر دیے، ان کے ہاتھ پیر کاٹے گئے، اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔ ان کے مقدس جسموں کو جلایا اور مسخ کیا گیا، جن کی تصاویر گوگل پر موجود ہیں۔

10 جولائی 2008ء:
حکومت اور سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں اپر کرم کے لیے سبزیاں لے کر آنے والی سبزیوں سے بھری گاڑیوں پر اڑاولی گاؤں، لوئر کرم میں حملہ ہوا۔ گاڑیوں کو لینڈ مائنز کے ذریعے اڑایا گیا، جس میں 7 افراد شہید اور 12 زخمی ہوگئے۔

2 اپریل 2010ء:
لوئر کرم ایجنسی کے علاقے چرخیل میں عسکریت پسندوں کی اہلِ تشیع کی گاڑیوں پر فائرنگ سے کئی افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

16 جولائی 2010ء:
کرم ایجنسی کے علاقے چارخیل میں تکفیری دہشت گردوں نے پاراچنار سے پشاور جانے والے مسافر گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر گھات لگا کر راکٹ سے چلنے والے دستی بم سمیت بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پاراچنار سے تعلق رکھنے والے 18 افراد شہید جبکہ 4 شدید زخمی ہوئے۔ اس سانحے میں متعدد افراد کو اغوا کیا گیا، جن میں 6 طالب علم بھی شامل تھے۔ اس حملے میں 2 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔

22 دسمبر 2010ء:
کرم ایجنسی کے علاقے چپھری میں سکیورٹی فورسز کی مدد سے پاراچنار سے پشاور جانے والے قافلے پر شدت پسندوں نے حملہ کیا، جس میں کئی افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

4 جنوری 2011ء:
سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے عسکریت پسندوں نے کرم ایجنسی کے شہر صدہ اور پیر قیوم کے مقام پر کھانے پینے کی اشیاء، ادویات اور دیگر سامان پاراچنار لے جانے والے قافلے پر حملہ کیا اور سات گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ گاڑی کے ڈرائیوروں اور کنڈکٹرز کو جلتی ہوئی گاڑیوں میں زندہ ڈالا گیا۔ اس حملے کی ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔

25 مارچ 2011ء:
کرم ایجنسی کے علاقے بگن میں پشاور سے پاراچنار جانے والے مسافر گاڑیوں کے قافلے پر حملے میں کم از کم 13 مسافر شہید اور 8 زخمی ہوئے، جبکہ 33 کے قریب افراد کو عسکریت پسندوں نے اغوا کر لیا، جن کو بعد میں کنویں میں پھینک کر شہید کیا گیا۔ چنانچہ اس حملے میں کل ملا کر 46 افراد شہید ہو گئے تھے۔ شہید ہونے والے تمام افراد شیعہ تھے، جو پاراچنار سے تعلق رکھتے تھے۔

21 جون 2022ء:
پاراچنار سے پشاور جانے والی گاڑیوں پر صدا بائی پاس پر ایف سی چیک پوسٹ پر تکفیری دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ذیشان حیدر (شینگگ) شہید ہوئے۔

24 اکتوبر 2023ء:
رنگ روڈ پشاور پر پاراچنار جانے والی فیلڈر گاڑی پر حملہ ہوا، جس میں عارف حسین شہید ہوئے جبکہ 4 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔

26 اکتوبر 2023ء:
لوئر کرم کے علاقے چارخیل میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی میں پاراچنار جانے والے قافلے پر حملے کے نتیجے میں 4 افراد ناصر حسین، دو بھائی ابرار حسین، مظفر حسین اور سید زمین حسین شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:
27 دسمبر 2023ء:
ضلع ہنگو میں پاراچنار جانے والی مسافر گاڑی پر حملے میں 2 افراد شہید جبکہ 5 افراد زخمی ہوگئے۔ شہید ہونے والوں میں توقیر سجاد اور اعجاز حسین شامل ہیں۔

7 جنوری 2024ء:
صدہ بازار کے قریب پاراچنار سے پشاور جانے والی دو مسافر گاڑیوں پر مسلح افراد کے حملے میں خاتون ڈاکٹر رقیہ اور ڈرائیور رحمان علی سمیت 4 افراد شہید ہوگئے۔

20 جون 2024ء:
پشاور سے پاراچنار آنے والی ہائی ایس گاڑی پر سیٹھ سیف اللہ کے گھر کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ سے ڈرائیور واجد حسین ملانہ سمیت تین افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

9:50 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top