مجالس میں مظلوم فلسطینیوں کا ذکر نہ کرو ،کمیل مہدوی کی انوکھی دلیل پر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید
شیعیت نیوز:کراچی میں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے مولوی کمیل مہدوی نے کہا ہے کہ مجالس عزا میں مظلوم فلسطینیوں کا ذکر نہ کریں ۔مجلس میں صرف 61ہجری کے یزید کا ذکر کریں وقت کے یزید پر کوئی بات نہ کریں
مولوی کمیل مہدوی کی تقریر کے متن پر علمائے کرام اور سوشل میڈیا پر مومنین نے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کربلا نہ ہوتی تو دنیا میں مظلوموں کی طرف داری نہ ہوتی ،کربلا سے دنیا بھر کے حریت پسند جزبہ حریت کا درس لیتے ہیں ۔
مولوی کمیل مہدوی کا منبر سے ایسے بیان دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے علما کا بائیکاٹ کیا جائے تو جو کربلا کے درس کو من مرضی کے مطالب سے کنفیوژن پید ا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مولانا کمیل مہدوی نے شیطانی فلم “فرقہ عشق“ کو شعائر امام حسینؑ کی توھین قرار دے دیا
ہم سب کی ذمہ داری ہے جتنا ہوسکے انسانیت بالخصوص مسلم دنیا کو بیدار کریں اور آج کے یزید صہیونیوں کے خلاف صف آراء ہوا جاسکے۔
کربلا میں حرمت والے مہینے میں یزید نے جنگ کی تھی اور آج یزید کی روش پر چلتے ہوئے صہیونی محرم کے مہینے میں بھی اپنی بربریت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سوچنے کا مقام پے کہ کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران ہوش میں آئیں اور مل کر مظلوم فلسطینیوں کو صہیونیوں کے مظالم سے نجات دلانے کیلیے متحرک ہوجائیں
کل ارض کربلا و کل یوم عاشورا، ہر زمین کربلا ہے اور ہر دن عاشورا، ہم سب نے اپنے گریباں میں جھانک دیکھنا ہے کہ آج کی کربلا میں ہم صہیونی بلاک میں کھڑے ہیں یا مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ۔
اِس سال کے محرم کی خاص بات یہ ہے کہ صہیونی فلسطین کے اندر کربلا بپا کیے ہوئے ہیں۔
چالیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے اور لاکھوں زخمی ہیں۔
ایسے میں کربلا کو امت مسلمہ کے اندر اتحاد و یکجہتی کا مظہر بناکر پوری دنیا کے مسلمانوں کو مسلکی اوع گروہی اختلافات کے باوجود متحد ہونا چاہیئے کہ مسلم امہ اسلام دشمن قوتوں خاص طور پر ظالم صہیونیوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکے۔







