تکفیریوں اور پولیس کی ملی بھگت سے مفتی فضل ہمدرد پر برہنہ تشدد میں ملوث ایس ایچ او کو معطل کیاجائے ،شیعہ سنی علمائے کرام کا مطالبہ

14 جولائی, 2024 23:10

شیعیت نیوز:مفتی فضل ہمدرد محب اہلبیت ہیں ا،نہیں حق گوئی کی سزا دی جارہی ہے۔

محبت اہلبیت مفتی فضل ہمدرد پر یہ تیسرا حملہ ہے۔

شیعہ سنی علمائے کرام نے مطالبہ کیا ہے کہ مفتی  فضل ہمدرد پر بدترین  تشدد کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے ۔

محب اہلبیت مفتی فضل ہمددرد پر بدترین تشدد تکفیریوں اور پولیس انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہوا ،ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاون کو  فوری طو رپر معطل کیا جائے ۔

عروف اہلسنت مفتی فضل ہمدرد نے تھانہ شاہ لطیف ٹاون کے باہر مظاہرین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے تھانے میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا،یہاں کا ایس ایچ او تکفیریوں سے ملا ہوا ہے ،میں یہاں کئی مرتبہ شکایت کا اندراج کروانے آیا لیکن آج مجھے اغوا کیا گیا اور تھانے میں مجھے برہنہ کرکے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق رات گئے محب اہل بیت مفتی فضل ہمدرد کو تھانہ شاہ لطیف ٹاون کے علاقے میں پولیس حراست میں لیا گیا  ،جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج کروایا تو مظاہرین پر فائرنگ کی گئی،کئی مومنین زخمی ہوئے ۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم سپاہ صحابہ کےناصبی دہشت گردوں کا محب اہلبیت مفتی فضل ہمدرد پر قاتلانہ حملہ

اسی دوران مفتی فضل ہمدرد کو تھانے میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔

مومنین کے احتجاج پر مفتی فضل ہمدرد کو رہا گیا تو مومنین نے لبیک یاحسین کے فلک شگاف نعرے بلند کئے ۔

اس موقع پر مفتی فضل ہمدرد نے کہا کہ اس ملک میں امام حسین کا نام لینا بھی جرم ہے،مجھ پہ پہلے بھی حملہ ہوا تو میں اسی تھانے میں آیا تھا

تھانے میں پولیس نے مجھے برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اس موقع پر مومنین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایچ او کو فوری معطل کیا جائے اور واقعہ میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔

8:11 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top