ایم کیو ایم اور تکفیریوں کا سیاسی اتحاد کھل کر سامنے آگیا،خصوصی رپورٹ
شیعیت نیوز:ایم کیو ایم اور تکفیریوں کا سیاسی اتحاد ایک بار پھر کھل کر سامنے آگیا ہے۔تکفیری ملا رمضان مینگل کے کراچی دفتر میں مصطفیٰ کمال نے ملاقات کی جس پر تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
ملک بھر اور خصوصاً شہر کراچی میں بسنے والے شیعہ افراد کی رائے عامہ ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کا جھکاؤ ناصبی وہابی دہشت گرد جماعتوں کی طرف ہے
جس کے باعث شیعہ مخالف پالیسیوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
اور پاکستان میں بسنے والے کروڑوں شیعیان حیدر کرار کی دل آزاری کی جا رہی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے سیاسی راستے کو پاکستان کی اکثریت نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس نفرت کی وجہ متحدہ قومی موومنٹ کی شیعہ مسلمانوں سے دشمنی اور شیعہ مسلمانوں کے خلاف محاز آرائی پر مبنی پالیسیاں بنانا اور ان پر عمل درآمد کرنا ہے.
جس کی واضح ترین مثال حالیہ الیکشن میں شیعہ امیدواروں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: شیعہ نسل کشی میں ملوث ایم کیو ایم اور کالعدم سپاہ صحابہ کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا
ایک طرف متحدہ قومی موومنٹ اپنے آپ کو ایک سیاسی جماعت کہتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیم نہیں لیکن دوسری جانب تکفیریوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئی ہے ۔
ایم کیو ایم کا کالعدم دہشت گرد گروہوں کی طرف جھکاؤ صاف اور واضح ہوچکا ہے ۔
ایم کیوا یم سے تعلق رکھنے والے سابق ناظم کراچی مصطفی کمال کے وہ الفاظ بھی یاد ہیں
جو انہوں نے سنہ ۲۰۰۹ میں سانحہ عاشورا میں درجنوں شیعہ شہادتوں کے بعد الٹا شیعہ نوجوانوں پر الزام عائد کرتے ہوئے واقعہ کے اصل حقائق پر بڑی چالاکی سے پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔
دوسری طرف یہ بات بھی شیعہ مسلمانوں کو یاد ہے کہ ۲۰۱۱ میں ملیر کے علاقے میں ایم کیو ایم کے دہشت گردوں نے ایک ممبر قومی اسمبلی کی سربراہی میں نہ صرف شیعہ نوجوانوں پر تشدد کیا
بلکہ کئی ایک مقامات پر ان کو فائرنگ کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیوایم پاکستان کی فرقہ وارانہ دشمنی و تعصب برقرار، انتخابی امیدواروں میں شیعہ پھر نظرانداز
یہاں ایسی بہت سی باتیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کے بلند و بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں.
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان میں اور خصوصاً شہر کراچی میں ایم کیو ایم کی حکومت میں ہونے کے باوجود سیکڑوں شیعہ نوجوانوں کا قتل عام ہوا
لیکن متحدہ قومی موومنٹ نے آج تک نہ پارلیمنٹ ،سینیٹ،اور صوبائی اسمبلی میں کوئی ایسی قرارداد پیش نہیں کی جس میں شیعہ نسل کشی کی مذمت یا شیعہ نسل کشی کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہو۔







