شہید محسن نقوی کے قاتل 28 سال بعد بھی گرفتار نہ ہوئے
شیعیت نیوز:آج ملک بھر میں اردو زبان کے معروف شاعر، سلام گو محسن نقوی شہید کی 28 ویں برسی منائی جارہی ہے۔ شہید کے قاتل تاحال آزاد اور اہل خانہ ریاست سے انصاف کے منتظر ہیں
محسن نقوی 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان کے محلّے سادات میں پیدا ہوئے تھے، محسن نقوی کا اصل نام غلام عباس جبکہ قلمی نام محسن تھا۔
اس سلسلے میں ادبی حلقوں میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا جس میں محسن نقوی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، محسن نقوی پنجاب کے شہرڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں :ممتاز شاعرِ اہلبیت محسن نقوی شہیدقتل کیس، سی ٹی ڈی سےریکارڈ طلب
محسن نقوی شہید نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو میں ایم اے کیا اور انہیں ایام میں آپ کی شاعری کا پہلا مجموعہ بند قبا شائع ہوا۔
ان معروف ترین کتب میں بند قبا، برگ صحرا، فرات فکر، ریزہ حرف، خیمہ جاں، رخت شب اور دیگر قابل ذکر ہیں۔
معروف شاعر محسن نقوی شہید کو 1994ء میں صدراتی تمغہ برائے حسن کارکردگی (پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ) سے نوازا گیا تھا۔
شہید محسن نقوی سابق وزیر اعظم محترمہ بےنظیر بھٹو کے مشیر بھی رہے۔
انہیں 15 جنوری 1996 کوسعودی نوازکالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے تکفیری دہشت گردوں نے مون لائٹ مارکیٹ لاہور میں فائرنگ کرکے شہید کر دیا تھا۔
ان کے قتل کے مقدمے میں سعودی نواز کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے بانی ریاض بسرا کو نامزد گیا گیا تھا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم میں پنتالیس گولیاں لگی تھیں۔
محسن نقوی نے زخمی ہونے کے بعد آخری شعر یہ کہے تھے۔
لے زندگی کا خمس علی کے غلام سے
اے موت آ ضرور مگر احترام سے
عاشق ہوں اگر ذرا بھی اذیت ہوئی مجھے
شکوہ کروں گا تیرا میں اپنے امام سے







