اہم ترین خبریںپاکستان

سانحہ علمدار روڈ کو 11 برس بیت گئے مگر قاتل تکفیری دہشتگرد رمضان مینگل آج بھی آزاد

سانحہ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین نے ملک بھر میں دھرنے دئیے تھے جس کے نتیجہ میں  بلوچستان میں گورنر راج لگادیا گیا تھا۔

 شیعیت نیوز دس جنوری 2013 ملت تشیع کا وہ سیاہ دن ہے جب کالعدم لشکر جھنگوی کے سفاک دہشتگردوں نے رات 8:30 بجے علمدار روڈ پر یکہ بعد دیگرے دو دھماکے کیے۔

جس کے نتیجے میں 90 مومنین سے زائد شہید ہوۓ جبکہ متعدد مومنین زخمی ہوۓ تھے

آج اس سانحہ کو 11 سال گزرگئے تاہم سانحہ ذمہ داری رمضان مینگل آج بھی آزاد گھوم رہا پے۔

ہزاروہ ٹاون علمدار روڈ پر دہشت گردی کے واقعہ میں 10جنوری 2013کو ایک سو زائد شیعہ ہزارہ شہید ہوگئے تھے

سانحہ کو 11برس بیت گئے مگر قاتل آج بھی آزاد ہیں۔

۔یاد رہے سانحہ کے خلاف مجلس وحدت مسلمین نے ملک بھر میں دھرنے دئیے تھے جس کے نتیجہ میں  بلوچستان میں گورنر راج لگادیا گیا تھا۔

بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد مجلس وحدت مسلمین کے  سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

علمدار روڈ بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور ہزاروں سوگواروں نے  شہدا کے جسد خاکی کے ساتھ مسلسل 4دن  تک دھرنا دیا تھا

یہ بھی پڑھیں: سانحہ علمدار روڈ دو سال بیت گئے، قاتل تکفیری دہشتگرد رمضان مینگل آزاد

کوئٹہ سانحے میں  شہید افراد کے لواحقین سے اظہاریکجہتی کے لئے ملک کے دیگر شہروں میں بھی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

 سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچستان کی کشیدہ صورتحال کے تناظرمیں صوبے کا دوہ کیا  تھا

جہاں انہوں نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد صوبے میں گورنر راج کے نفاذاورصوبائی حکومت کی برطرفی  کا فیصلہ کیا تھا۔

اس بات کا اعلان انہوں نے علمدارروڈ پر پنجابی امام بارگاہ میں ہزارہ برادری کے افراد سے اظہارتعزیت کے دوران کیا  تھا۔

بعدازاں یکجہتی کونسل نے صدرکی جانب سے صوبے میں  گورنر راج کی سمری پردستخط کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button