کالعدم تنظیم کے سرغنہ احسان اللہ احسان کے ریاستی ادارے پر الزام
شیعیت نیوز: کالعدم تحریک طالبان کے سرغنہ احسان اللہ احسان نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ کچھ دن پہلے سنڈے گارڈین میں میرا ایک مضمون، داعش خراسان کی قیادت پاکستانی ایجنسیوں کی مہمان نوازی کا لطف اٹھا رہی ہے
کے عنوان سے شائع ہوا، جس میں پاکستانی ایجنسیوں کی داعش کی مہمان نوازی اور داعش کے ان جنگجوؤں کی تفصیلات تھی جو اس وقت پاکستانی فوج کی حفاظت میں ہیں اور اب اسے افغانستان میں بطور اپنی پروکسی استعمال کر رہی ہیں۔
کالعدم دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ نے مبینہ طور پر دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے مضمون کی اشاعت کے بعد سوشل میڈیا ٹرولز مجھے اور سنڈے گارڈین کو متنازعہ بنانے کی کوششیں شروع کی، کیونکہ ان کے پاس میرے مضمون میں شائع شدہ ٹھوس حقائق اور ثبوتوں کا کوئی جواب نہیں تھا اس لیے انہوں نے پروپیگنڈے کے لیے لفاظی کا سہارا لیا۔
اس کا کہنا ہے کہ حقیقت کو جھوٹ اور لفاظی سے بدلا نہیں جا سکتا اس لیے آج ہم داعش خراسان کی پاکستانی ریاستی اداروں کیساتھ تعلق اور دوستی کے حوالے مزید حقائق سے پردہ اٹھائیں گے
تاکہ دنیا کو سچائی کا پتہ چل سکے اور پاکستانی اداروں کی مکاری کا راز پاش ہوسکے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان کے اداروں کو میرا چیلنج ہے کہ وہ میرے بیان کردہ حقائق کو جھٹلائیں ہم ان شاءاللہ انہیں جھوٹا ثابت کر دیں گے۔
کالعدم تنظیم کے سرغنہ نے مسلح افواج کیخلاف الزام تراشی کو جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے داعش کے اورکزئی ایجنسی اور باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے داعش کے جنگجو پاکستانی اداروں کے گیسٹ ہاؤسز میں بطور مہمان رہے ہیں اور انہیں باجوڑ ایجنسی میں علماء اور مقامی قبائلی مشران کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور یہی لوگ باجوڑ میں خودکش حملوں میں بھی ملوث ہیں
جس میں ایک مذہبی سیاسی جماعت کے جلسے پر خودکش حملہ بھی شامل ہے، جو پاکستانی اداروں کی خواہش اور ہدایت پر کیا گیا تھا۔
دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ نے کہا ہے کہ غور طلب بات یہ ہے کہ ہر بڑے حملے کے بعد ریاستی ادارے تحقیقات اور گرفتاریوں کے بڑے بڑے اعلانات کرتی ہیں، مگر داعش کے باجوڑ سمیت کسی حملے کے بعد کوئی تحقیقات اور گرفتاریاں عمل میں نہیں لائی گئی، اداروں تحقیقات اور گرفتاریوں کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں کی، کیونکہ حملہ آور انہیں معلوم تھے اور وہ ان کے گیسٹ ہاؤسز میں مہمان تھے، اس لیے مہمانوں کی گرفتاری کا کوئی تک نہیں بنتا۔
کالعدم تنظیم کے مطابق داعش خراسان کے باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ان جنگجوؤں کی تفصیلات ذیل ہیں۔
1- حمیدالله ولد عبدالقیوم (تحصیل واڑہ ماموند)
2 – بختیار ولد مامدګلا (تحصیل واڑہ ماموند)
3 – نوراسلام. ولد محمد زمین( تحصیل واڑہ ماموند)
4 – تاجوالی ولد شاوالی ( تحصیل واڑہ ماموند)
5 -نیازوالی ولد شاوالی (تحصیل واڑہ ماموند)
6 -حمیدالله ولد مزیر (تحصیل واڑہ ماموند)
7 -جھانزاده ولد مزیر ( تحصیل واڑہ ماموند )
8 -منګل باغ ولد ناموس خان (تحصیل واڑہ ماموند)
9 -عبدالرحمان ولد ناموس خان (تحصیل واڑہ ماموند) 10- ګوریله ولد زبیر کاکا ( تحصیل لوی ماموند)
11- انس ولد زبیر کاکا (تحصیل لوی ماموند)
12- نظام ولد عبدالله ( تحصیل لوی ماموند )
13 -قاری عکرمہ ولد گلاب شاه( تحصیل ریاست)
14 -اوسامه ولد اضعر ( تحصیل واڑہ ماموند ڈمہ ڈولہ )
15- نظام ولد نامعلوم (تحصیل واڑہ ماموند ڈمہ ڈولہ)
16 – نبیل (تحصیل واڑہ ماموند ڈمہ ڈولہ )
17- سیف الله قاری (تحصیل ریاست)
18- تاجوالی ( تحصیل واڑہ ماموند علاقہ کگا )
19 ۔ یاسر (تحصیل واڑہ ماموند علاقہ ڈبرہ )
20 ۔ شیرولی ولد مزیر (تحصیل واڑہ ماموند )
کالعدم دہشت گرد کا کہنا ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں تعینات پاکستان ارمی کے افسران نے داعش کے جنگجوؤں کو امارت اسلامی افغانستان کے آپریشن سے محفوظ بنانے کے لیے انہیں پاکستان بلایا اور ان کی مہمان نوازی کر رہے ہیں، باجوڑ میں تعینات بریگیڈیئر راو عمران (کمانڈر سیکٹر نارتھ باجوڑ سکاوٹس)، کرنل اقبال جدون اور کرنل خلیل تاج کیانی (171 وینگ کمانڈر) قابل ذکر ہیں، جبکہ ایم ائی اور آئی ایس آئی کے افسران جو اپنے اصلی نام ظاہر نہیں کرتے، جو داعش کو محفوظ بنانے اور انہیں شیلٹر فراہم کرنے میں شامل ہیں۔
الزام عائد کیا گیا ہے کہ ریاستی ادارے داعش خراسان کو امارت اسلامی افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کے منصوبےC اپنا کام تیزی سے شروع کر چکے ہیں اور مستقبل میں اس میں مزید تیزی بھی آئیگی،







