نیتن یاہو نے ذاتی مفادات کی خاطر اسرائیل کو جنگ میں جھونکا ہے، صیہونی ذرائع ابلاغ

24 نومبر, 2023 10:23

شیعیت نیوز: صیہونی ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی حلقوں کی جانب سے بنجمن نیتن یاہو پر شدید اعتراضات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ نیتن یاہو کو برطرف کرنے کا مطالبہ روز بروز شدت پکڑتا جا رہا ہے اور اگر اس کے خلاف کوئی موثر اقدام انجام نہ پایا تو وہ کبھی بھی استعفی نہیں دے گا۔

عبرانی زبان میں شائع ہونے والے صیہونی اخبار ہارٹز نے اس بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو پر مستعفی ہو جانے کیلئے ڈالے جانے والے دباؤ کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور وہ ہر گز خود اپنے عہدے سے سبکدوش نہیں ہو گا اور سیاست کا میدان نہیں چھوڑے گا۔

رپورٹ کے مصنف صیہونی لکھاری اور تجزیہ کار یوسی لیوی نے اس شدید بحران کی جانب اشارہ کیا جس سے اسرائیل روبرو ہو چکا ہے اور لکھا کہ بنجمن نیتن یاہو کو یقین ہو چکا ہے کہ وہ ایک فرمانروا ہے۔ اسرائیل اور نیتن یاہو گذشتہ چند سالوں سے مفادات کے شدید ٹکراو کا شکار ہیں اور جو چیز اسرائیل کے حق میں ہے وہ نیتن یاہو کیلئے نقصان دہ ہے اور برعکس بھی ایسا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ سے مصر کی جانب فلسطینیوں کا جبری انخلاء ہماری ریڈ لائن ہے، صدر عبدالفتاح السیسی

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو غزہ جنگ کو طول دینے کے درپے ہے جبکہ اسرائیل کے فوجی، سکیورٹی، اقتصادی، سفارتی اور سیاسی مفادات ہمیشہ سے مختصر مدت کی جنگ کے متقاضی رہے ہیں اور ہماری سکیورٹی ڈاکٹرائن بھی اسی پر زور دیتی ہے۔ لیکن بنجمن نیتن یاہو نے اپنے ذاتی مفادات کے مدنظر اسرائیل کی سکیورٹی ڈاکٹرائن کے برخلاف عمل کیا ہے اور ایک تھکا دینے والی طولانی جنگ میں قدم رکھا ہے جس کا مقصد آئندہ الیکشن میں شکست سے بچنا ہے۔

یوسی لیوی اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ غزہ کے خلاف طولانی جنگ کا آغاز بہت بڑی غلطی تھی، اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اسرائیل جغرافیائی گہرائی سے عاری ہے اور اس کی فوج بھی ریزرو فورس کے بل بوتے پر تشکیل پائی ہے، لہذا لاکھوں سپاہیوں کا طولانی مدت تک فوج میں رہنا شدید معاشی بحران کا سبب بن سکتا ہے۔

غزہ جنگ کا طولانی ہو جانا نیتن یاہو کے حق میں ہے اور وہ اس طرح خود کو نجات دینا چاہتا ہے۔ اس نے ہمیشہ اسرائیل کے اسٹریٹجک مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر قربان کیا ہے۔ وہ پہلا شخص جس نے اس حقیقت کو سمجھا سابق اسرائیلی وزیراعظم اسحاق شامیر ہیں جنہوں نے نیتن یاہو کو تخریب کاری کی علامت قرار دیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کے پیچھے ہے۔

اس رپورٹ کی روشنی میں مختلف سروے رپورٹس کے نتائج اور وسیع پیمانے پر جاری احتجاج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کے حامی بہت کم ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی مظاہرین نے نیتن یاہو کے علاوہ دیگر اعلی سطحی حکام کے گھروں کے سامنے بھی مظاہرے کئے ہیں اور ان سے نیتن یاہو کو معزول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صیہونی ذرائع ابلاغ نے غزہ میں جاری فوجی جارحیت ختم ہو جانے کے بعد نیتن یاہو کی صورت حال کے بارے میں اعلان کیا کہ کینسٹ میں لیکوڈ پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور وہ نیتن یاہو پر اسرائیلیوں کا اعتماد ختم ہو جانے کی روشنی میں نیتن یاہو کی معزولی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

صیہونی حکومت کے اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے چند دن پہلے غزہ جنگ میں نالائقی کا ثبوت دینے پر نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت مناسب نہیں کہ اسرائیل الیکشن کی طرف جائے اور نیتن یاہو کو گھر چلے جانا چاہئے۔

11:53 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top