آفتاب ملت جعفریہ شہید علامہ آغا آفتاب حیدرجعفری ؒ کی آج 11ویں برسی منائی جارہی ہے
شیعیت نیوز: آفتاب ملت جعفریہ ، خطیب بے بدل ، شہید علامہ آغا آفتاب حیدرجعفری ؒ کی آج 11ویں برسی منائی جارہی ہے، شیعیان کراچی کی ہر دلعزیز شخصیت ، ممتاز خطیب اہل بیتؑ شہید علامہ آغا آفتاب حیدر جعفری کوہم سے بچھڑے آج11برس مکمل ہوگئے ہیں۔ شہید کے قاتل آج بھی آزاد ، بیوہ اور اہل خانہ تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ شہید کی جدائی کا خلاءآج تک پورا نا ہوسکادوست احباب اور پوری ملت جعفریہ11برس گذرجانے کے باجود ان کی یاد بھلا نہ سکے ۔
تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں عزاخانوں ، احتجاجی مظاہروں اور مختلف سیمینار کی رونق سمجھے جانے والے مایہ ناز خطیب اہل بیت ؑ، شعلہ بیاں مقرر، شاعراور معروف بینکارشہید علامہ آغا آفتاب حیدر جعفری اور ان کے رفیق خاص شاہد علی مرزاکی آج11ویں برسی ہے ۔ شہید کو بچھڑے11برس بیت گئے لیکن ان کی یاد آج ہمارے دلوں میں تازہ ہے ۔
شہید آغا آفتاب حیدر جعفری کے والد کا نام معراج حسین تھا۔ آپ پیشہ کے اعتبار سے ایک پرائیویٹ بینک کے نائب صدر تھے۔ آپ ایک خطیب اور مذہبی اسکالر ہونے کے ساتھ شاعر بھی تھے۔ آپ پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے لائینز ایریا میں رہائش پذیر تھے۔ آپ کی زندگی انتہائی سادہ تھی۔ آپ نے زمانہ نوجوانی اور طالب علمی میں امریکہ مخالف شیعہ طلبہ تنظیم آئی ایس اوکا انتخاب کیا اور کئی سال تک اسی تنظیم کے مختلف عہدوں پر فائز رہتے ہوئے خدمات انجام دیں۔
یہ بھی پڑھیں: کرہ ارض پر بہت جلد اسرائیل نامی کسی قبضہ گروپ کا وجود نہیں ہوگا، آئی ایس او طالبات کراچی
انہیں 6نومبر 2012 کی صبح ان کے گھر کے نزیک پارکنگ صدر پر کالعدم تکفیری وہابی جماعت سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ اپنے ساتھی شاہدعلی مرزا کے ہمراہ حبیب بینک پلازہ جارہے تھے ۔ اندھادند فائرنگ کے نتیجے میں دونوں زخمی موقع پر ہی جام شہادت نوش فرماگئے ۔
شہادت کے وقت آپ کی عمر 42سال تھی، آپ سرزمین پاکستان پر اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے، آپ کی شخصیت نوجوانوں میں بےپناہ مقبولیت کی حامل ہے۔ آپ پاکستان میں عالمی استعمار امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک چٹان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ آپ جعفریہ الائنس پاکستان اور فلسطین فائونڈیشن پاکستان کے اساسی ممبر اور مرکزی سرپرست کمیٹی کے اہم رکن تھے۔شہادت سے کچھ عرصہ قبل آپ مجلس وحدت مسلمین سےوابستہ ہوگئے تھے اور ان کی شہادت کی وجہ بھی ایم ڈبلیوایم کے پلیٹ فارم سے اجتماعی جدوجہد ہی بنی ۔
واضح رہے کہ شہید علامہ آفتاب حیدر جعفری کے جلوس جنازہ پر لیاقت آ باد کے نزدیک پولیس اہلکاروں نے براہ راست فائرنگ بھی کی تھی جس کے نتیجے میں مزید 3 عزادار جام شہادت نوش کرگئے تھے ۔







