کئی سالوں کے بعد بلوچستان کا سفر کیا، عام آدمی کی حالت بالکل نہیں بدلی، ملک اقرار حسین علوی

24 اگست, 2023 11:32

شیعیت نیوز: گذشتہ شب مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء، شبعہ تبلیغات و عزاداری ونگ کے مسئول جناب ملک اقرار حسین علوی کے اعزاز میں ایم ڈبلیو ایم پاکستان شعبہ امور خارجہ کے مسئول حجت الاسلام ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے ایک عشائیہ دیا۔ اس موقعے پر پاکستان کی موجودہ صورت حال اور اہم مسائل زیر بحث آئے۔

ملک اقرار حسین علوی نے کہا کہ میں نے کئی سالوں کے بعد بلوچستان کا سفر کیا اور مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ بلوچستان میں عام آدمی کی حالت بالکل نہیں بدلی۔ بلوچستان کی سرزمین سونا اگلتی ہے، لیکن عام آدمی ماضی کی طرح پسماندگی، افلاس اور غربت کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے قوم کے نوجوان سخت مایوس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تفتان کے بارڈر پر پاکستانیوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ تعلیم، روزگار اور زیارات کیلئے بیرون ملک جانے والے لوگوں کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کی جائے، لیکن ان کی توہین کی جاتی ہے اور ان کے احساسات کو مجروح کیا جاتا ہے۔ خدا ہمارے پالیسی سازوں کو ملک و قوم کا درد اور عقل و شعور عطاء کرے۔

یہ بھی پڑھیں : آیت اللہ محمد حسین نجفی کی علمی اور تبلیغی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، حافظ ریاض نجفی

اس موقع پر توہین صحابہ ترمیمی بل کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بل ملت اسلامیہ اور ملکی سلامتی پر ایک گہرا وار ہے۔ اہل تشیع نے علماء و ذاکرین کانفرنس کے ذریعے بتا دیا ہے کہ ہم کسی صورت میں اس غیر آئینی و غیر قانونی بل کو قبول نہیں کریں گے۔ ہم پوری طاقت کے ساتھ اس بل کو روکیں گے۔

انہوں نے تفتان بارڈر کی صورت حال کے حوالے سے کہا کہ میں خود عینی شاہد ہوں کہ تفتان بارڈر پر لوگوں کو سکیورٹی عملہ ذہنی ٹارچر کرتا ہے۔ ایک تو تفتان بارڈر تک ٹرانسپورٹ کا انتہائی ناقص انتظام ہے۔ جب باڈر پر پہنچتے ہیں تو وہاں تو انتظامات نام کی کوئی چیز نہیں۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت لوگوں کو ملک سے مایوس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ امام حسین علیہ السلام سے عشق ہے کہ تمام زائرین ہر قسم کی مشکلات کو تحمل کرتے ہیں۔

بارڈر پر موجود عملے کا کام فقط پاسپورٹ و ویزا چیک کرنا ہوتا ہے، مگر افسوس کہ وہاں موجود عملہ خواہ مخواہ توہین آمیز انداز میں بازپرس شروع کر دیتا ہے۔ ملک عزیز پاکستان کی طرف سے ملے ہوئے پاسپورٹ و سفارت سے دیئے گئے ویزے کے ساتھ سفر کرنے والوں کو ہراساں کرنا قانوناً و اخلاقاً جرم ہے۔ تفتان بارڈر پر ایک ستون کے اندر چھوٹا سا کمرہ بنایا گیا ہے، جس سے روزانہ ہزاروں زائرین کو ڈیل کیا جاتا ہے۔ وہ بھی انتہائی غیر مناسب رویئے اور توہین آمیز سلوک کے ساتھ۔ پوچھتے ہیں کہ ویزا کہاں سے لیا؟ کس کے توسط سے لیا؟ شادی کب کی ہے؟ بچے کتنے ہیں؟ گھر کا ایڈریس؟ ان جیسے سوالات سے پتہ چلتا ہے کہ بارڈر پر موجود عملے کا مقصد صرف لوگوں کو اذیت دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پورے پاکستان میں مایوسی کی فضا ہے۔ 60% جوان مایوسی کا شکار ہیں۔ تفتان بارڈر پر لوگوں کو اپنے سے مزید مایوس کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر دیگر حاضرین نے بھی تفتان بارڈر اور نام نہاد ناموس صحابہ پر اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا۔

حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے میزبان شخصیت حجۃ الاسلام ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی نے کہا کہ ہمیں تفتان بارڈر اور نام نہاد ناموس صحابہ بل کے حوالے سے ہر طرح کی قانونی، اخلاقی، سیاسی اور جمہوری جدوجہد کرنی چاہیئے۔ انہوں نے یکم ربیع الاول کے احتجاج کیلئے قوم سے بھرپور تیاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ یکم ربیع الاول کا احتجاج ایک فیصلہ کن احتجاج ہوگا۔

1:40 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top