اسلام ناب محمدیؐ کا پیغام پھیلائے بغیر نصرتِ امام مہدیؑ کیلئے لشکر تشکیل نہیں پا سکتا، آیت اللہ غلام عباس رئیسی
شیعیت نیوز: معروف بزرگ عالم دین آیت اللہ غلام عباس رئیسی کا کہنا ہے کہ تشیع کی ذمہ داری ہے کہ غیبت امام زمانہ (عج) میں حقیقی اسلام یعنی اسلام ناب محمدیؐ کا پیغام پھیلائیں، اس کے بغیر نصرتِ امام مہدی (عج) کیلئے لشکر تشکیل نہیں پا سکتا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں امام بارگاہ چہاردہ معصومینؑ انچولی سوسائٹی میں عشرہ محرم الحرام کی مجالس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے کہا کہ جب دامن اہلبیتؑ سے متمسک نہ ہو تو گمراہی لازم ہے، حکمران باطل ہو تو عوام کی گمراہی لازم ہے، یہ اسلام کی نہیں بلکہ تاریخ بشری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنن الٰہی ہے کہ نعمت کی شناخت حاصل کی جائے پھر شکر کیا جائے، اگر شناخت نعمت ہی نہ ہو تو اس کا شکر کیسے ادا کریں گے، اور شکر ادا نہ کیا تو نعمت واپس لے لی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی، عزاداروں کا سوئیڈن میں توہین قرآن کے خلاف مجلس عزا میں احتجاج، ہاتھوں میں قرآن بلند
آیت اللہ غلام عباس رئیسی نے کہا کہ اللہ نے انسان میں حیوانی صفات بھی رکھی ہیں، مگر ان کا ہدف انسانی صفات کی خدمت ہے، اگر انسانی صفات کو حیوانی صفات میں استعمال کریں گے تو جانور بلکہ اس سے بدتر کی منزل پر گر جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا ہمارے لئے خلق کی ہے، یہ ہدف زندگی نہیں بلکہ وسیلہ زندگی ہے کہ اس دنیا سے اخروی سعادتیں حاصل کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیاوی سیاست مدار عوام کو بے وقوف بنا کر اپنے ناپاک عزائم پورے کرتے ہیں، کیونکہ تمام مکار شیاطین انکے ساتھ ہوتے ہیں، اسلئے صورت حال کا غلط تجزیہ و تحلیل پیش کرتے ہیں، 90 فیصد لوگ حکمرانوں کے دھوکے میں آتے ہیں، فقط 10 فیصد لوگ حق کی پہچان رکھتے ہیں اور پروپیگنڈا میں نہیں آتے، عبیداللہ ابن عباس سالار لشکر تھا امام حسنؑ کا، امیر شام نے اس کے شیر خوار کو اس کے سامنے مارا تھا، مگر جب مال کی آفر ہوئی تو وہ اسی امیر شام سے جا ملا۔
انہوں نے کہا کہ گمراہی کا حل حصول علم (بصیرت) اور پاکیزہ وسیلے سے توسل کرنا ہے، علم ہو اور وسیلہ پاک نہ ہو تو گمراہی کا خوف ہے، شیطان نے آدمؑ کو خدا کا نام لے کر اور قسم کھا کر دھوکا دیا۔
انہوں نے کہا کہ دور پیغمبر اسلام (ص) سے پہلے لوگ سادہ تھے، اس لئے ان میں منافقین نہیں ہوتے تھے، تاریخ اسلام میں منافقین دورِ رسولؐ میں وجود میں آئے۔
انہوں نے کہا کہ کافر کے خلاف شجاعت کافی ہوتی ہے فتح کیلئے، منافقین سے حکمت عملی کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے، پیغمبر اکرم (ص) نے واضح معیار دیا منافقین کی پہچان کیلئے، وہ ہے علیؑ کی محبت، امت نے پیغام بھلا دیا اور رسول خدا (ص) کی باتوں سے روگردانی کی۔







