بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے خود مختار و جرات مند پالیسیاں اختیار کی جائیں،علامہ ساجدعلی نقوی
شیعیت نیوز: سربراہ شیعہ علماءکونسل پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں بین الاقوامی چیلنجز سے نمٹنے اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ چلنے کےلئے ضروری ہے کہ خود مختار ، جرات مند پالیسیاں اختیار کی جائیں، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کی جلد از جلد تکمیل انتہائی ضروری ہے، مناسب قیمت پر توانائی کے حصول کی ملک کو اشد ضرورت ہے، بین الاقوامی منصوبہ پر عملدرآمدکےلئے تمام تر سفارتی ذرائع کا استعمال یقینی بناکر منصوبہ مکمل کیا جائے،ایک مرتبہ پھر اس منصوبے کا حکومتی سطح پر زیر غور آنا اور عمل کےلئے حکمت عملی بارے اطلاعات خوش آئند اور احسن قدم ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حکومت کی جانب سے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے ، حکمت عملی بارے اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ چند روز قبل پاک ایران بارڈر مارکیٹس کا افتتاح، بلوچستان کےلئے مزید بجلی کے اقدامات کے بعد برادر ہمسائیہ ملک ایران کے صدر کو دورئہ پاکستان کی دعوت کے بعد اب اس منصوبے کو حتمی شکل دی جائے تاکہ برادر اسلامی ملک کے صدر کا دورہ ثمر آور ثابت ہو ۔
یہ بھی پڑھیں: 18ارب جرمانے سے بچنے کیلئے پاکستان کی امریکا سے ایران گیس پائپ لائن کی اجازت طلب
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور عوامی مشکلات کے حل کےلئے سستی توانائی کے حصول کےلئے جرات مند و خود مختار پالیسیاں اختیار کرنا ہونگی ۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ملکی معیشت کےلئے انتہائی اہم ترین ہے البتہ ملکی و عوامی مفاد کا یہ اہم ترین بین الاقوامی منصوبہ گزشتہ عشرہ میں سرد خانے کی نذر رہا ، ارض وطن جو اس وقت معاشی و اقتصادی گھمبیر مسائل کا سامناہے ایسے حالات میں اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ،شعبہ توانائی میں کم از کم پاکستان کی ضروریات کو مناسب انداز میں پورا کرنے کےلئے اس بین الاقوامی منصوبے کی تکمیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس کےلئے وزارت خارجہ ، وزارت پٹرولیم، وزارت اقتصادی امور اور وزرات خزانہ کو معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، تمام سفارتی ذرائع کا استعمال یقینی بناتے ہوئے اعلیٰ ترین سفارتی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کن اقدام اٹھایا جائے جس سے نہ صرف دوبرادر اسلامی ممالک میں ہونیوالا معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچے بلکہ اس کے ثمرات انڈسٹری کیساتھ ساتھ عوام تک پہنچیں ، اس منصوبے کی تکمیل سے دونوں ہمسائیہ ممالک میں تعلقات مزید بہتر ہونے ساتھ ساتھ معاشی لحاظ سے یہ منصوبہ ملک و قوم کےلئے مفید ہوگا۔







