اہم ترین خبریںایران

جرمنی صدام کو کیمیائی اسلحہ فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے، ایرانی وزارت خارجہ

شیعیت نیوز: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جرمنی کے وزیرخارجہ کو بخوبی علم ہوگا کہ ایرانی عوام پر کیمیائی حملوں کی ذمہ داری جرمنی پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ جرمنی نے ہی صدام کو کیمیائی اسلحہ سے لیس کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ٹوئیٹر پر ناصر کنعانی نے لکھا ہے کہ صدام کی بعثی حکومت کو کیمیائی اسلحہ فراہم کرنے میں جرمنی کا بھی ہاتھ تھا۔ جرمنی کے اس اقدام کے بعد صدام نے کیمیائی ہتھیاروں کو ایرانی عوام کے خلاف استعمال کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ماضی میں گھناؤنے کردار ادا کرنے والوں کو ایرانی عوام کے حقوق کی بات کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔

انہوں نے جرمن وزیرخارجہ کے بیانات کو شرمناک قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ماضی میں گھناؤنے جرم کا مرتکب ہونے والے آج کس منہ سے ایرانی عوام کےحقوق کی بات کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : سوڈان، جنرل حمیدتی کی ہلاکت کی افواہ، پیراملٹری فورسز نے تردید کردی

دوسری جانب ایران نے دنیا کی حریت پسند اقوام کو پیغام دیا ہے کہ عالمی پابندیوں کے باوجود ملکی اور داخلی وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں ترقی کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ایرانی بحری جہاز کی جانب سے دنیا کے گرد چکر مکمل کرکے ملک آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ ایران خطے کی بڑی سمندری طاقت ہے۔

جنوبی شہر بندر عباس میں ہونے والی تقریب کے دوران انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ بحری جہاز نے یہ کارنامہ انجام دے کر تاریخ رقم کی ہے۔ اس کارنامے کے بعد بین الاقوامی سطح پر ایران کے وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

کنعانی نے کہا کہ سمندری طاقت کسی بھی ملک کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ ایرانی بحریہ نے دنیا کے گرد کامیابی کے ساتھ چکر لگا کر دکھادیا ہے کہ ایران نے تمام سختیوں کو دور کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سمندری سفر کے دوران بحری جہاز نے بخوبی دکھادیا کہ ہم نے سمندری صنعتی شعبے میں قابل قدر پیشرفت کی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ایران نے دنیا کو دکھادیا ہے کہ امریکی غیرمنصفانہ پابندیوں کو شکست دی جاسکتی ہے۔ ہمارے اس کارنامے سے دنیا کی محکوم اقوام کے دلوں میں امید کی کرن پیدا ہوگئی ہے۔ ہمارے جوانوں نے دنیا کی حریت پسند اقوام کو پیغام دیا ہے کہ عالمی پابندیوں کے باوجود ملکی اور داخلی وسائل پر بھروسہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں ترقی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button