تہران، مزاحمتی محاذ کی شخصیات پر اردو میں کتابوں پر فکری سیمینار کا انعقاد

21 مئی, 2023 09:26

شیعیت نیوز: ایران کے دارالحکومت تہران میں 34 واں انٹرنیشنل کتاب میلے میں کانون دانشجویان اردو زبان در ایران ( ایران میں اردو زبان اسٹوڈنٹس کی یونین) کی طرف سے فکری سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان ’’انقلابی و مزاحمتی محاذ کی شخصیات کے بارے لکھی یا اردو میں ترجمہ کی گئی کتابوں کا جائزہ‘‘ تھا۔

فکری سیمینار سے معروف مصنف و مترجم، سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر راشد عباس نقوی، شہید قاسم سلیمانی کے آثار کو محفوظ و نشر کرنے والے سرکاری ادارے ( بنیاد حفظ و نشر آثار شہید قاسم سلیمانی) کے نمائندے آغا مہدی آقایی اور ایران میں اردو زبان اسٹوڈنٹس کی یونین کے صدر اور مصنف سید حسن رضا نقوی نے گفتگو کی۔

ڈاکٹر راشد عباس نقوی کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی کے بعد شہید مطہری، امام خمینی (رح) ، شہید مصطفی چمران کے بارے کتابیں لکھیں اور ترجمہ کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم میں ایک طرف کتاب پڑھنے کا شوق بہت کم ہے اور دوسری طرف مہنگائی کی وجہ سے قوت ِ خرید میں بھی کمی آئی ہے، جس کی وجہ سے مختلف مصنفین اور پبلشرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر شہید عارف حسین الحسینی کے بارے میں بھی کوتاہی سے کام لیا گیا اور ان کی شہادت کے بعد تین سے چار سال تک ان کے افکار کے بارے کوئی کتاب نہ چھپی یا بعض لوگ خود رکاوٹ تھے کہ اگر شہید عارف حسینی کے افکار ان کی شہادت کے فوراً بعد معاشرے میں پھیلا دیے جاتے تو ان لوگوں کی اپنی حیثیت میں فرق پڑتا، کیونکہ شہید حسینی کے راستے کو جاری رکھنے کی ان میں صلاحیت نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں : دشمن جان لے! ایران کو دیوار سے لگانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، ایڈمرل شہرام ایرانی

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی پبلشرز نے بھی اس حوالے سے کوتاہی کی ہے کہ ایران کے علاوہ دوسرے ممالک کے شہداء کے بارے فارسی زبان میں کتابیں لکھنے یا ان کو متعارف کروانے کی حوصلہ افزائی نہیں کی ہے۔

فکری سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راشد عباس نقوی کا کہنا تھا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر ایک کتاب حال ہی میں انہوں نے لکھی ہے جو چھپی ہے اور اسی طرح شہید عارف حسینی پر بھی فارسی میں کتاب تکمیل کے مراحل میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی کے اوپر بھی مختلف زبانوں میں کام ہونا چاہیے اور ان کو آثار کو فقط ایران تک محدود نہیں رہنے دینا چاہیے۔

مکتب حاج قاسم سلیمانی کے نمائندے آغا مہدی آقایی نے بتایا کہ اب تک شہید قاسم سلیمانی پر مجموعی طور پر مختلف زبانوں میں 700 کتابیں لکھی جا چکی ہیں، جن میں سے شہید قاسم سلیمانی کے آثار کو محفوظ و نشر کرنے والے سرکاری ادارے نے 40 کتابوں کو بہترین کتابیں قرار دیا ہے، انٹرنیشنل کتاب میلے میں ان چالیس کتابوں کی باقاعدہ رونمائی کی گئی ہے، جس میں انٹرنیشنل کتابوں میں واحد پاکستانی مصنف حسن رضا نقوی کی کتاب مکتبِ سلیمانی جو کہ فارسی میں ’’سربازِ مکتب‘‘ کے نام سے چھپی ہے، اس کو بہترین کتاب دیا گیا ہے۔

آغا آقایی کا کہنا تھا کہ بہت سی کتابیں معیار کے اعتبار سے بہت ہی کمزور ہیں، جنکو نہیں چھپنا چاہیے تھا، بعض کتابوں میں تکراری مطالب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید سلیمانی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بچوں سے لیکر مختلف عمر کے مخاطبین کے لیے کتابیں لکھی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بنیاد ِ حاج قاسم نے مختلف زبانوں سمیت اردو زبان کو بھی اپنی ترجیح میں رکھا ہوا ہے اور انشاءاللہ اردو زبان میں بھی ہم شہید کے افکار کے متعلق بہترین کتابوں کے ترجمے کروا کے چھپوائیں گے۔

فکری سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مصنف و مترجم سید حسن رضا نقوی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ انقلاب اسلامی کے دشمنوں کے طرف سے شاخص شہداء کے خلاف میڈیا کے ذریعے جو پراپیگنڈے کئے جاتے ہیں، اس کو روکنے کے لئے ایک بہترین ہتھیار کتاب کے ذریعے حقائق کو لوگوں تک پہچانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محاذ کے شہداء کے ساتھ ساتھ مختلف عظیم سانحات میں قربانیاں دینے والے شہداء کے واقعات کو بھی کتابی شکل میں دوسری زبانوں میں ترجمہ کرکے پہنچانا چاہیے۔

انہوں نے یوم القدس کے موقع پر سیلاب کے دوران کوئٹہ کے اندر ریلی کے دوران ہونے والے دھماکے سے 84 شہداء کی عظیم قربانی کا ذکر کیا کہ جس کے بعد سید حسن نصر اللہ اپنی گفتگو میں اس سانحے کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑے تھے کہ یہ کتنا بڑا معرکہ ہے کہ ایک ملت سیلاب کے اندر فلسطین کے مظلومین کے ریلی نکالتی ہے اور پھر شہید دیتی ہے۔

حسن رضا نقوی کا کہنا تھا کہ ایسی کئی قربانیاں پاکستانی ملت نے دی ہیں، جو براہ راست مزاحمتی محاذ سے مربوط ہیں جس پر فارسی و دیگر زبانوں میں کتابیں لکھی جانی چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رہبر معظم نے شہید سلیمانی کی دوسری برسی کے موقع پر فرمایا تھا کہ اگر شہید کا جنازہ پاکستان لے جایا جاتا تو لوگ اس کا ویسے ہی استقبال کرتے جیسے اایران و عراق میں ان کا استقبال ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ رہبر معظم کی یہ بات اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی ملت استعمار مخالف اور مزاحمتی محاذ سے عشق رکھتی ہے، لہذا پاکستانی شہداء کے بارے اردو میں بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

فکری سمینار کی نظامت کے فرائض نخلِ سبز پبلشر کے مدیر محمد رضا کلانتر نے انجام دیے۔ ایران کی مختلف یونیورسٹیوں کے اردو زبان اسٹوڈنٹس اور ایرانی شرکاء نے بھی سیمینار میں شرکت کی۔

10:18 صبح اپریل 27, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔