صہیونی حکومت مظاہرین کے غم و غصے کی آگ میں جل کر بھسم ہوجائے گی، ناصر کنعانی

شیعیت نیوز: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے غاصب صہیونی ریاست اسرائیل میں جاری سیاسی بحران کے بارے میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ بحران اس آگ کی طرح ہے جو نیتن یاہو کی حکومت کو جلاکر بھسم کردے گی۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر غاصب صہیونی وزیراعظم کی مجوزہ عدالتی اصلاحات کے خلاف جاری مظاہروں میں لاکھوں صہیونی سڑکوں پر آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کے مجرم وزیراعظم کی جانب سے اپنی طاقت بڑھانے اور سیاسی طور پر زندہ رہنے کی کوشش نے صہیونی معاشرے میں موجود اندرونی خرابیوں کی بخوبی نشاندہی کی ہے۔ عوام اور مظاہرین کے جم غفیر کی سڑکوں اور شاہراہوں پر موجودگی اور سیکورٹی فورسز کے جھڑپیں اس کی زندہ مثال ہے۔
ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے نیتن یاہو کی غاصب حکومت کی جانب سے متنازع عدالتی ضابطے کے باعث جاری احتجاجی مظاہروں کو ’’آگ بھڑکانے والے قابضین کے گھر میں آگ‘‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے مغربی ممالک کی غاصب اسرائیل کی حمایت پر تنقید کرتے ہوئے کنعانی نے برطانیہ، امریکہ اور یورپ کی طرف سے حمایت کو ’مضحکہ خیز‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : ایک ماہ قبل نابلس قتل عام میں زخمی فلسطینی نوجوان عمیر محمد لولح دم توڑ گیا
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ڈنمارک میں متعدد انتہا پسندوں کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذمت کی ہے۔
ناصر کنعانی نے بعض یورپی ممالک میں قرآن پاک اور مسلمانوں کے مذہبی مقدسات کی بے حرمتی کے اعادہ اور ان میں اضافے کے خلاف خبردار کیا اور ان لوگوں کی خاموشی پر تنقید کی جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ انسانی حقوق کی حمایت کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے نقطہ نظر سے نفرت، انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہوتی ہے جس سے انسانوں کے امن اور پرامن بقائے باہمی کے ساتھ ساتھ عالمی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
انہوں نے دلیل دی کہ انسانی حقوق کی آڑ میں حالیہ بے حرمتی کو نظر انداز کرنا عالمی اور عظیم انسانی حقوق کے سراسر منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور مسلم ممالک ڈنمارک کے حکام سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری قبول کریں گے اور اس طرح کی توہین اور نفرت پھیلانے کی اجازت کو منسوخ کریں گے تاکہ آزادی اظہار کے بہانے اس طرح کی توہین آمیز نمائشوں کے اعادہ کو روکا جا سکے۔