تہران: آذربائیجان کے سفارت خانے پر حملہ، ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی

شیعیت نیوز: ایرانی دارالحکومت تہران کے پولیس سربراہ نے کہا کہ آج صبح ایک شخص آتشیں اسلحہ لے کر آذربائیجان کے سفارت خانے میں داخل ہوا اور فائرنگ کر دی جس میں ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے۔
پولیس کی تیز رفتاری سے حملہ آور کو فوری گرفتار کر لیا گیا اور اس سے تفتیش جاری ہے۔یہ شخص اپنے دو بچوں کے ساتھ سفارت خانے میں داخل ہوا۔ابتدائی تفتیش میں حملہ آور نے بتایا کہ اس کا مقصد ذاتی اور خاندانی مسائل تھے۔
تہران کے مجرمانہ امور کے سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ آج صبح آٹھ بجے تہران میں جمہوریہ آذربائیجان کے سفارت خانے کے سامنے ایک کار رکی اور ایک شخص سفارت خانے کی عمارت میں ہتھیار لے کر داخل ہوا۔ حملے کے بعد جمہوریہ آذربائیجان سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک اور 2 افراد زخمی ہوئے۔
ابتدائی تفتیش میں ملزم نے دعوی کیا کہ اس سال اپریل میں، میری اہلیہ تہران میں سفارت خانے گئی اور گھر واپس نہیں آئی۔
سفارت خانے کے بار بار آنے کے دوران مجھے ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا اور میں نے سوچا کہ میری اہلیہ تہران میں جمہوریہ آذربائیجان کے سفارت خانے میں موجود ہیں اور مجھ سے ملنے کو تیار نہیں ہیں۔ آج صبح میں نے اس کلاشنکوف رائفل کے ساتھ سفارت خانے جانے کا فیصلہ کیا جو میں نے پہلے سے تیار کر رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : عراقی کردستان میں کورمور گیس فیلڈ پر راکٹ حملہ
دوسری جانب ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے تہران میں جمہوریہ آذربائیجان کے سفارت خانے کے دروازے پر مسلح حملے کے بعد، جس میں بدقسمتی سے ایک شخص کی موت ہوئی، اس کارروائی کی شدید مذمت کی۔
ارنا رپورٹ کے مطابق، کنعنی نے سفارت خانے کے اس رکن کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ آذربائیجان کی حکومت اور عوام سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے فوری مداخلت کی اور حملہ آور کو گرفتار کر لیا، جس سے اس وقت تفتیش جاری ہے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ملک کے سیاسی اور سیکورٹی حکام کے خصوصی حکم کے ساتھ اس معاملے کی اعلی ترجیح اور حساسیت کے ساتھ تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ اس کارروائی کے پہلووں اور حملہ آور کے مقصد کا تعین کیا جا سکے۔
کنعانی نے مزید کہا کہ متعلقہ حکام اور اداروں کی ابتدائی تحقیقات کے نتائج اس کارروائی کے پیچھے ذاتی محرکات کی نشاندہی کرتے ہیں، اس لیے متعلقہ پولیس، سیکیورٹی اور عدالتی اداروں کی فوری آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سفارش کی جاتی ہے کہ میڈیا غیر معتبراور قیاس آرائی پر مبنی خبریں شائع کرنے سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلی معلومات تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد شائع کی جائیں گی۔