آئمہ جمعہ امامیہ نےملک بھرمیں ہونے والے خطبات میں متنازعہ فوجداری ترمیمی ایکٹ 2021 کو سختی سےمستردکردیا

21 جنوری, 2023 12:40

شیعیت نیوز: قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے فرقہ وارانہ منافرت اور مذہبی شدت پسندی کے فروغ پر مبنی متنازعہ فوجداری ترمیمی ایکٹ 2021 کو پاکستان بھرکے آئمہ جمعہ امامیہ نے سختی سے مسترد کردیا ہے ۔

شیعہ علماء کونسل ، مجلس وحدت مسلمین اور مجلس علمائے شیعہ پاکستان کی اپیل پر گذشتہ روز کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، گلگت، سکردو، پشاور ،ملتان، پاراچنار سمیت ملک بھرمیں ہونے والے نماز جمعہ کے اجتماعات میں آئمہ جمعہ نے یک زبان ہوکر پاکستان کی گلی محلے میں فرقہ واریت کی آگ لگانے والے فوجداری ترمیمی ایکٹ 2021 (ناموس صحابہ بل)کو قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے خلاف سنگین سازش قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کردیا ہے۔

خطباء نے کہا کہ شریعت میں مقدسات کی توہین کی تشریح پہلے سے موجود ہے، سزا اور جزاکا قانون وہی ہے جو اسلام میں معین ہے ، لیکن مقدسات شخصیات اور ان کی حدودوقیود کا تعین کرنا ضروری ہے۔ اسلامی تاریخ کے ایسے کردار اور شخصیات جنہوں نے خود خلفاء کے مقابل قیام کیا ہو، ان سے جنگیں کی ہوں، اہل بیت رسالتؐ پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہوں، ان کا حق غصب کیا ہو ، انہیں شہید کیا ہووہ کیسے مقدس اور محترم ٹہر سکتے ہیں؟؟

یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ کے بعد جماعت اسلامی بھی پاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانےکی مہم کا حصہ بن گئی

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس متنازعہ قانون کا فوری خاتمہ کیاجائے، اراکین سینٹ سےبھی گذارش کی گئی کہ اس کالے قانون کو منظورنہ ہونےدیا جائے، اگر یہ قانون نافذ ہوا تو ناجانے اور کتنے بے گناہ مارے جائیں گے یا جیلوں میں ڈالے جائیں گے جن کے خلاف ذاتی اختلاف کے سبب گستاخی یا توہین کے جھوٹے الزامات عائد کیئے جائیں گے ۔

مقررین نے مزید کہا کہ پاکستان میں اس قانون سے پہلے بھی اس کا غلط استعمال بارہا ہوتا رہا ہے، سلمان تاثیر کا قتل،سیالکوٹ میں سری لنکن شہری پریانتھاکمارا کا قتل،آسیہ بی بی کا قتل ، خانیوال میں مشتاق احمد ولد بشیر احمدکا قتل،پشاور میں 57 سالہ طاہر احمد نسیم کا قتل ، سنہ 2017 میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے طالبعلم مشال خان کا بہیمانہ قتل اس کی واضح مثالیں ہیں جبکہ سینکڑوں شیعہ نوجوانوں پر بھی توہین صحابہ کے جھوٹے الزامات عائد کرکے انہیں جیلوںمیں ڈلوایا گیا۔

خطبائے جمعہ نے مزید کہا کہ کسی صحابی سے متعلق تاریخی حقیقت بیان کرنا یا ان کے کرتوتوں سے پردہ ہٹانا کسی صورت توہین صحابہ کے زمرے میں نہیں آتا نا ہی شریعت محمدی میں کسی صحابی پر تنقید کی سزا موت یا قید درج ہے ۔ اگر ایسا ہے تو آج تک سب سے پہلے اہل سنت کے خلیفہ چہارم حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا ؑ کے خلاف ستر ہزار منبروں سے سب وشتم کروانے والے ان سے جنگیں کرنے والے ان کے اہل وعیال کو قتل کرنےوالے معاویہ ابن ابی سفیان اور یزید ابن معاویہ لعین کو قبروں سے نکال کرکوڑے مارے جائیں ۔

2:55 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top