کالعدم سپاہ صحابہ کے بعد جماعت اسلامی بھی پاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانےکی مہم کا حصہ بن گئی

21 جنوری, 2023 13:07

شیعیت نیوز: وطن عزیز پاکستان میں بین المسالک نفاق و اختلاف کی سازشیں سعودی نواز تکفیری وہابی دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے 3 دہائیوں سے جاری ہیں لیکن افسوس اب اس غلیظ مہم میں خود کو نظام مصطفیٰ اور انقلاب کے نفاذ کی ٹھیکیدار دیوبندی تنظیم جماعت اسلامی بھی شامل ہوگئی ہے ۔ ملک عزیز میں فرقہ وارانہ منافرت ، مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کے فروغ کیلئے ناموس صحابہ و اہل بیتؑ بل قومی اسمبلی میں پیش کرنےکا سہرا بھی جماعت اسلامی کے ہی ایک رکن مولانا اکبر چترالی کے سر سجتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں قومی اسمبلی سے منظور ہونا والا یہ مذکورہ فوجداری ایکٹ 2021 ترمیمی بل اس سے قبل بھی کئی بارمختلف شکلوں میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں سے منظور کروانے کی ناکام کوششیں کی گئیں جنہیں مختلف جماعتوں کے بیدار شیعہ سنی اراکین نے کامیاب نہیں ہونے دیا تھا۔

سال گذشتہ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے رکن حافظ عمار یاسر نے بھی کالعدم سپاہ صحابہ کے رکن معاویہ اعظم کے ساتھ مل کر تحفظ بنیاد اسلام بل پنجاب اسمبلی سے منظور کروانے کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنایا گیا جبکہ اسی معاویہ اعظم کے باپ امام مہدی ؑ کے گستاخ ملعون اعظم طارق لعنتی نے بھی بے نظیر دورحکومت میں شریعت بل کے نام پر ایسا ہی ایک فتنہ انگیز قانون قومی اسمبلی سے منظور کروانے کی مذموم کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 20 جنوری 2014، آج نواں یوم شہادت عالم باعمل و صالح رفیق شہید عارف حسینی ؒ مولانا سید عالم موسوی المشہدی

یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس بار یہ بل کسی تکفیری دہشت گرد جماعت کی جانب سے نہیں بلکہ خود کو روشن خیال اسلامی جماعت قرار دینے والی جماعت اسلامی کے رکن اکبر چترالی نے کالعدم سسپاہ صحابہ کی ایماء پر قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا جوکہ حیران کن ہے ، اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی میں بھی بعض ایسے عناصرموجود ہیں جو کالعدم سپاہ صحابہ اور تحریک لبیک کی طرح ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ملک کی گلی گلی لوگ توہین کے جھوٹے الزامات لگا کر اور گستاخ قرار دیکر یا تو مارے جائیں یا جیلوں میں ڈالے جائیں۔

ایسے عناصر کا مقصد اہل سنت کے مقدسات کی آڑ میں رسولؐ اور اہل بیت رسولؐ کے دشمنوں اور قاتلوں ، خصوصاً بنو امیہ ، بنو عباس اور آل مروان کو مقدس اور محترم قرار دلواکر تمام شیعوں سے ان کی تعزیم کروانا ہے ، تاریخی واقعات کے تناظر میں ان شخصیات کے کردار کو بیان کرنے کو توہین صحابہ قرار دلوانا ہے اور ان پر تنقید کو تعزیراتی جرم قرار دلواکر 2 سال یا عمر قید کی سزا کا مجرم ثابت کروانا ہے ۔

افسوس ہماری ریاست اور اس کےمقتدر ادارے پاکستان کو ایک مخصوص مسلکی مملکت بنانے کے ایجنڈے پر گامزن ہیں جس میں اکبر چترالی جیسے عناصر ان کے آلہ کار کےطور پر کارفرما ہیں، ملت جعفریہ کو اپنے اتحاد سے اس کالے قانون کا راستہ روکنا ہوگاساتھ ہی ایوان بالا سینٹ اور ایوان زیریں قومی اسمبلی میں موجود باشعور اراکین کو کسی کوبھی گستاخ قرار دیکر قتل کردیئےجانے یا قید کروادینے والے اس متنازعہ قانون کا راستہ روکنا ہوگا کیوں کہ پاکستان میں سب سے آسان کام اپنے مخالف کو گستاخ قرار دیکر اسے ماردیناہے جس کی مختلف مثالیں ہمارے ملک میں موجود ہیں۔

8:00 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top