ایم ڈبلیوایم کی جانب سے کراچی میں شہدائےپاکستان کی یاد میں دعائیہ تقریب کا انعقاد، شمع روشن
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین سندھ کی جانب سے شہدائے سانحہ آرمی پبلک اسکول کی ساتویں برسی کے موقع پر نمائش چورنگی پر دعائیہ تقریب اور خراغاں کیا گیا جس میں مختلف سیاسی و مذہبی سمیت سماجی تنظیموں کے رہنماوں نے شرکت کر کے شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی اوربیاد شہداء وطن شمع روشن کی اس موقع پرصوبائی رہنما علامہ باقرعباس زیدی،نائب صدر علامہ مختارامامی ،سیکرٹری سیاسیات سیدعلی حسین نقوی،علامہ مبشر حسن،صادق جعفری، علامہ حیات عباس نجفی، علامہ سجاد شبیر رضوی، جماعت اسلامی کے رہنما اسد اللہ بھٹو، علامہ شاہ فیروز الدین رحمانی، ہندو برادری کے رہنما منھوج چوھان ،پاکستان عوامی تحریک کے ثاقب مصطفی ،رہنما مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان علامہ مرتضیٰ خان رحمانی، سکھ رہنما مگن سنگھ، ڈاکٹر صابر ابو مریم، علامہ نثار قلندری، عسکری دیوجانی، علامہ عوسجہ رضوی، علامہ نقی نقوی، رضی حیدر رضوی، ناصرالحسینی ، فرحت عباس رضوی ، زین رضوی ، علامہ ملک غلام عباس، ذیشان حیدر رضوی سمیت دیگر سیاسی ، مذہبی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی ۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ ناصرعباس جعفری کا جلیل القدرعالم دین آیت اللہ سید محمد صادق روحانی کی رحلت پر اظہار افسوس
اپنے خطاب میں رہنما علی حسین نقوی نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول معصوم بچوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔قوم کے وہ نوجوان اور والدین تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنے خونی رشتوں پر وطن کی محبت کو مقدم رکھاملک دشمن عناصر کسی بھی لچک یا رحم کے مستحق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف مذہبی اسکالر علامہ کرامت عباس حیدری کی سید اسدعباس نقوی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کامشیر برائے سیاسی امور مقررہونے پر مبارکباد
انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے بعد قوم جس طرح دہشت گردوں کے خلاف یک زبان تھی آج بھی اسی وحدت و اخوت کی ضرورت ہے۔کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات، اسیران کی رہائی اور دہشت گردوں کے خلاف عسکری کارروائیوں کی بندش جیسے فیصلے ملک و قوم کے مفاد میں نہیں اور ان کی کسی صورت تائید نہیں کی جا سکتی۔ اے پی ایس سانحے کے ذمہ داران دہشت گردکو کیفر کردار تک پہنچایا جانا قانون و انصاف کی بالادستی ہے۔تاہم متعدد دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ داران ابھی تک اپنے انجام تک نہیں پہنچے۔انتہاپسندانہ کاروائیوں میں ملوث ہر مجرم کو نشان عبرت بنایا جانا چاہیے تاکہ شہدا کے پسماندگان کے رستے ہوئے زخم مندمل ہوسکیں۔







