اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کے سمندر میں 6 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا

29 نومبر, 2022 05:59

شیعیت نیوز: پیر کے روز اسرائیلی قابض فوج نے جنوبی غزہ کے سمندر میں دو کشتیوں پر سوار 6 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔

قابض فوج کے ترجمان نے ایک پریس بیان میں کہا کہ اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے سمندر میں دو کشتیوں کو مصر سے اسمگلنگ کے شبے میں روکا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج نے انہیں روکنے کے لیے دو کشتیوں پر فائرنگ کی۔ اس کے بعد انہوں نے 6 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔

ترجمان نے اشارہ دیا کہ حراست میں لیے گئے چھ افراد کو دو کشتیوں کے ساتھ اسدود میں بحریہ کے اڈے پر منتقل کیا گیا، جس کے بعد انہیں پوچھ گچھ کے لیے منتقل کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے، الجزائری صدر تبون

دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں صہیونی ھداسا” اسپتال کی انتظامیہ نے ڈاکٹر احمد رسلان محاجنہ کوبرطرف کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے زخمی فلسطینی بچے محمد ابو قطیش کو اس وقت مٹھائی کا ایک ٹکڑا دیا تھا جب اسپتال میں اس کا علاج کیا جا رہا تھا۔ ابو قطیش کو زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا اور وہ اس وقت اسرائیلی پولیس کی تحویل میں تھا۔

ڈاکٹرمحاجنہ جو دل اور پھیپھڑوں کے سرجن کے طور پر کام کرتے ہیں صہیونی میڈیا اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے ان کے خلاف شروع کی گئی اشتعال انگیز مہم کا نشانہ بنے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فلسطینی لڑکا کمانڈو آپریشن کرنے کے بعد زخمی ہوا تھا۔

ڈاکٹر احمد محاجنہ نے اپنی پہلی ڈگری اولم کی جرمن یونیورسٹی سے مکمل کی اور ھداسا ہسپتال کے کارڈیک سرجری کے شعبہ میں شمولیت اختیار کی۔

ڈاکٹر الفحماوی نے پہلے یروشلم کے علاقے سے ایک مریض کے لیے مصنوعی دل لگانے کے آپریشن میں حصہ لیا تھا۔

عناتا قصبے سے تعلق رکھنے والے بچے "ابو قطیش” جس کی عمر16 سال ہے کو 22 اکتوبر کو مقبوضہ بیت المقدس میں فرانسیسی پہاڑی کے قریب چھرا گھونپنے کی کارروائی کے بعد قابض فوج نے گولی مارنے کے بعد گرفتار کیا تھا۔

3:53 شام اپریل 1, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔