مغرب کے لیے مفادات اہم ہے نہ انسانی حقوق، علی باقری کنی
شیعیت نیوز: نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور باقری کنی نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ اور انسانی حقوق کا تحفظ مغرب کیلیے اہم نہیں ہے اور وہ اپنے مفادات کیلیے جب چاہیں دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔
یہ بات علی باقری کنی نے گزشتہ روز تہران میں آسیان کے رکن ممالک کے سفیروں اور سیاسی مشنوں کے سربراہوں سے ملاقات میں کہی۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی عراق کے باشندوں کو دہشت گردی کے ٹھکانوں سے دور رہنا چاہیے، جنرل محمد خاکپور
انہوں نے اس ملاقات میں جو جس میں ویتنام، انڈونیشیا، ملائیشیا، اور برونائی کے سفیروں اور فلپائن اور تھائی لینڈ کے ناظم الامور نے شرکت کی، آسیان کے ممالک درمینان تعاون کی صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے آسیان کو اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک مناسب صلاحیت قرار دیا ۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی تعاون علاقائی استحکام اور امن کے تحفظ اور علاقائی معاملات میں غیر ملکیوں کی مداخلت کو ختم کرنے کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قطر سے امن کا مطالبہ کرنے کے جرم میں سعودی مبلغ سلمان العودہ گرفتار
باقری نے بین الاقوامی مسائل میں مغربی حکومتوں کے سیاسی اور مفاد پرستانہ رویے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہاکہ دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ اور انسانی حقوق کا تحفظ مغربیوں کے نقطہ نظر میں اصل نہیں ہے بلکہ ان ممالک کی خارجہ پالیسی کے ٹول باکس کا ایک حصہ ہے۔ اسی لیے جب ان کے مفادات کی ضرورت ہے وہ دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کریں گے۔
اس ملاقات میں آسیان کے ممالک کے سفیروں نے دوطرفہ اور چند فریقی تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آسیان کے ممالک اور ایران کے درمیان تعاون فروغ سے دونوں فریقوں کے طویل مدتی مفادات میں استحکام آئے گا۔







