کیا حکومت کو کسی بڑے سانحےکا انتظار ہے ؟؟؟
شیعیت نیوز: (اظہر علی شاہ)خیبر پختونخوا میں دھشتگردی کے دو واقعات میں ایک ہی دن سیکورٹی اداروں کے 8 جوانوں کی شہادت نےسیکورٹی اداروں اور عوام کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ، اس سے پہلے مختلف اضلاع میں پولیس اور اسکے خفیہ اداروں کے اہلکاروں سمیت پاک فوج کے جوان آئے روز ان حملوں میں اپنے خون کے نذرانے دیتے آئے ہیں ، پشاور سمیت صوبے بھر میں بھتوں کی وصولیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں ، بھتہ نہ دینے والے شہریوں کے گھروں پر بم حملے کیئے جاتے ہیں یا انہیں اغوا سمیت ٹارگٹ کلنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، امن کمیٹیوں کے سربراہوں اور ارکان کو چن چن کر سرعام قتل کیا جارہا ہے ۔
نئے سرے سے یہ حالات ایک ایسے وقت میں ابھر رہے ہیں جب پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیاں اقتدار میں ہیں خصوصا” خیبر پختونخوا میں تقریبا 9 برس سے ایک ہی پارٹی برسر اقتدار ہے مگر مجال ہے کہ ان تمام پارٹیوں نے مل کر بھی ایک مذمتی بیان سے بڑھ کر کچھ کیا ہو ،
یہ بھی پڑھیں: علمدار روڈ کوئٹہ میں اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی وارداتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان ہے، ارباب لیاقت علی ہزارہ
سیاسی پارٹیاں اقتدار کے حصول کی عظیم اور مقدس جنگ میں مصروف ہیں اور عوام کو دھشتگردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، یہ سنگین صورتحال سانحہ اے پی ایس اور سانحہ کوچہ رسالدار مسجد کی طرز کے ایک اور سانحے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ۔
سوات ، دیر ، شمالی وزیرستان ، جنوبی وزیرستان ، صدہ ، اور پاڑہ چنار میں ھزاروں عوام امن کا جھنڈا لے کر سڑکوں پر نکل چکے ہیں مگر اس کا حکومت پر کوئی اثر نظر نہیں آیا ، اگر پشاور کی عوام نے امن کے لیئے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کر لیا تو حکومت کے لیئے ایک مشکل اور پریشان کن صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت امن مانگنے والوں کو امریکہ کا ایجنٹ اور امریکی سازش قرار دے کر امن کے بھکاریوں کے خلاف غداری کے مقدمات قائم کرنے پر مجبور ہو جائے ، لہٰذا اس سے پہلے کہ عوام کا حقیقی ردعمل سڑکوں پر نظر آئے حکومت کو ان مٹھی بھر دھشتگردوں کے خلاف فیصلہ کن کاروآئی کرنی چاھیئے ۔







