شیعہ اکثریتی علاقے دشت برچی میں تعلیمی مرکز پر خود کش حملہ، 72 افراد شہید اور زخمی

شیعیت نیوز: افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے دشت برچی میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے میں درجنوں افراد جاں بحق و زخمی ہوئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے میں جمعے کی صبح ایک تعلیمی ادارے کے قریب ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے میں بتیس سے زائد افراد جاں بحق اور پینتیس دیگر زخمی ہوگئے۔
دھماکہ دشت برچی کے شیعہ اکثریتی علاقے میں واقع کالج کے مرکز میں ہوا۔ طلبا یونیورسٹی کے پریکٹس امتحانات دے رہے تھے۔ سکیورٹی اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ شہدا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : جو مکتب امام اور ولی فقیہ نے متعارف کرایا ہے وہ راہ کشا ہے، علامہ ناصر عباس جعفری
رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں ۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے کے قریب ہونے والا دھماکہ خودکش تھا۔ دھماکے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔
گزشتہ جمعے کو بھی کابل کی وزیر اکبرخان کی مسجد کے قریب ہونے والے دہشت گرانہ بم دھماکے میں چار افراد جاں بحق اور متعدد دیگر زخمی ہوگئے تھے۔
یہ دھماکہ وزیر اکبر خان مسجد کے قریب اور کابل کے سبز علاقے سے قریبی فاصلے میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ گزشتہ موسم گرما میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل اس انتہائی محفوظ علاقے میں سفارتی مشن اور اہم بین الاقوامی ادارے موجود تھے۔
جمعے کی دھماکے کی نوعیت کے بارے میں طالبان انتظامیہ نے ابھی تک کچھ نہیں کہا ہے۔
افغانستان میں گزشتہ مہینوں کے دوران مختلف علاقوں خاص طور پر کابل میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی آئی ہے اور طالبان انتظامیہ سیکیورٹی برقرار کرنے کے اپنے تمام دعوؤں کے باوجود اس طرح کے حملوں کو نہیں روک سکی ہے- کابل میں بیشتر دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری داعش دہشت گرد گروہ نے قبول کی ہے ۔