اہم ترین خبریںایران

جنگ کا مقصد ایرانی قوم کو نئی باتوں و پیغام کو دوسری قوموں تک پہونچنے سے روکنا تھا

شیعیت نیوز: آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے دفاع مقدس کے دوران ایران کے خلاف جنگ کو بین الاقوامی پیمانے پر چھیڑی گئی جنگ بتایا اور اس میں بیرونی فریقوں کی وسیع شمولیت کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک وقت ہم دعوی کرتے تھے کہ سبھی بین الاقوامی طاقتیں ہمارے خلاف لڑ رہی ہیں، لیکن آج خود وہ لوگ اس بات کو مان رہے ہیں جو کہا کرتے تھے کہ ہم صرف دعوی کر رہے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کے خلاف مسلط کردہ گئی جنگ کو سامراج کا اسلامی انقلاب کی کامیابی پر فطری رد عمل قرار دیا اور کہا کہ اس جنگ کا مقصد ایرانی قوم کو نئی باتوں و پیغام کو دوسری قوموں تک پہونچنے سے روکنا تھا جس میں امریکہ سے نہ ڈرنے اور بین الاقوامی سطح پر ظلم و تفریق کے خلاف استقامت کا پیغام شامل تھا۔

انہوں نے آگے کہا کہ ایرانی قوم کے انقلاب سے نہ صرف ایک پٹھو و بدعنوان نظام کی شکست ہوئی اور امریکہ سمیت سامراج کو صرف ایک وار نہیں لگا، بلکہ یہ عالمی سامراج کے لئے بڑا چیلنج تھا اور مشرق و مغرب کے سامراج نے اس خطرے کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے جنگ کو بڑھاوا دے کر اور صدام کو اشتعال دلا کر ایرانی قوم پر جنگ مسلط کر دی۔

یہ بھی پڑھیں : خطرہ محسوس ہوا تو صیہونی عناصر کو منہ توڑ جواب دیں گے، جنرل محمد حسین باقری

رہبر انقلاب اسلامی نے ایران کی تقسیم، خوزستان جیسے اہم حصے کو الگ کرنے، ایرانی قوم کو جھکانے، اسلامی جمہوری نظام کو سرنگوں کرنے اور ایرانی قوم کی لگام کو اپنے ہاتھ میں لینے کو سامراجی طاقت کی طرف سے جنگ مسلط کئے جانے کے اصل اہداف گنوائے اور کہا کہ ان کھلی حقیقتوں کو نہیں بھولنا چاہئے۔

انہوں نے اپنی تقریر کے ایک حصے میں دشمن کی حملے کی جرئت پر لگام لگانے والی ڈٹرنس پاور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک دفاع کی نظر سے ڈٹرنس کے مرحلے میں پہونچ گیا ہے اور بیرونی خطروں کی طرف سے کوئی اندیشہ نہیں ہے اور دشمن بھی اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے دفاع مقدس کے کارناموں کو ایرانی قوم کے لئے ثابت ہو چکے اہم حقائق قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفاع مقدس سے ثابت ہو گیا کہ ملک کی حفاظت، دشمن کے خطروں کے سامنے ڈٹرنس پاور صرف مزاحمت سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ سر تسلیم خم کرنے سے۔

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسی طرح سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی سمیت تمام میدانوں میں مزاحمت و استقامت کے اصول پر عمل کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس بصیرت پر مبنی استقامت سے دشمن کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ اپنے کیلکولیشن میں ایران کی داخلی طاقت کو ہمیشہ مد نظر رکھے، کیونکہ ہم اسی جذبے کے ذریعے ہی سب سے زیادہ دباؤ کی پالیسی یا نئے میڈل ایسٹ کی سازش یا ہوائی اور سمندری سرحدوں میں دشمن کی دراندازی جیسی بہت سی کوششوں کو ناکام بنا سکے۔

انہوں نے ایک با پھر صحیح بیانیہ پیش کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس تعلق سے اب تک جو کام ہوئے ہیں اچھے ہیں لیکن اس کا نتیجہ نظر آنا چاہیئے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی تقریر کے آخر میں دفاع مقدس اور اسلامی انقلاب کے اصول کے بارے میں غلط روایت کے سد باب کو ضروری بتاتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں امریکی اور صیہونی کتاب اور فلم کے ذریعے کام کر رہے ہیں جس سے نپٹنے کے لئۓ اہل نظر اور اہل فن کی مدد لینی چاہیئے۔

اس ملاقات کے آغاز میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری نے دفاع مقدس کے فرھنگ و اقدار اور اس کی ترویج کے لے اٹھائے گئے قدم اور پروگراموں کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button