اہم ترین خبریںایران

رہبر انقلاب نے ہمیشہ عالم اسلام اور خطے پر خصوصی توجہ دی ہے، حسین امیرعبداللہیان

شیعیت نیوز: عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے ساتویں اجلاس کے شرکاء نے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان کے ساتھ ملاقات کی اس ملاقات میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی بھی موجود تھے۔

اس ملاقات کے آغاز میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی سرگرمیوں کو تقویت دینے میں ملک کے سفارتی نظام کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہل بیت(ع) کی عملی زندگی اور سیاسی زندگی کو متعارف کرانے کے لیے علمی، فکری اور ثقافتی کوششیں جاری رکھیں۔

اس اجلاس میں جس میں اسلامی ممالک میں ایران کے کچھ سفراء بھی موجود تھے، اپنے خطاب کے دوران وزیر خارجہ نے اجلاس میں شرکت کرنے والے شیعہ علماء و مشائخ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ بہت سے ممالک مظلوم براعظم افریقہ کا سرمایہ غارت کرنے اور ان کے ذخائر کو لوٹنے میں مصروف ہیں، لیکن رہبر انقلاب کی خارجہ پالیسی کو تاکید ہے کہ وہ افریقہ کو فراموش نہ کریں اور ٹیکنالوجی اور علم و دانش کو اس براعظم میں منتقل کریں۔ اسی وجہ سے وزارت خارجہ نے کینیا کے دار الحکومت میں ایران کا پہلا ٹیکنالوجی سینٹر قائم کیا ہے اور یہ سلسلہ دوسرے ممالک میں بھی جاری رہے گا۔

حسین امیرعبداللہیان نے مزید کہا کہ رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ہمیشہ عالم اسلام اور خطے پر خصوصی توجہ دی ہے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں کردار دینے کی کوشش کی ہے۔ امن کی گفتگو اور انصاف کے حصول کے بارے میں وہ نظریاتی اور عملی میدان دونوں میں رہنمائی کرتے ہیں تاکہ عالم اسلام کی عظیم صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : قید کی سخت سزائیں محمد بن سلمان کے جابرانہ سوچ کی عکاسی کرتی ہیں، ڈوئچے ویلے

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ عالم اسلام میں تفرقہ سے متعلق ہر چیز کی جڑ ان جماعتوں میں ہے جو مسلمانوں کی بھلائی نہیں چاہتیں، واضح کیا کہ آج صیہونیوں کو مقبوضہ علاقوں کے اندر واقعی کثیرالجہتی سیاسی، سیکورٹی اور سماجی بحرانوں کا سامنا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ دریائے نیل سے فرات تک فتح کرنا چاہتے تھے لیکن اب وہ خود گھیرے میں ہیں۔ آج اگر صیہونی کسی تنازع میں پڑتے ہیں تو وہ لبنان میں مزاحمت کے دوستوں یا ایران کے دوستوں کو کئی چینلز کے ذریعے پیغام دیتے ہیں کہ مزاحمت سے صرف یہ کہیں کہ وہ انتقامی کارروائیاں بند کریں۔

حسین امیرعبداللہیان نے کہا کہ امریکی سیکورٹی ادارے اور بعض دوسرے ممالک اسلامی ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں اور انہیں تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے شہید جنرل قاسم سلیمانی کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: شہید نے شام، عراق، لبنان، فلسطین، افغانستان اور دیگر کئی ممالک کے عظیم لوگوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ سردار سلیمانی نے اپنی یادداشتوں میں کہا ہے کہ ہم نے خفیہ ملاقاتوں کے نقشے اور دستاویزات آڈیو اور ویڈیو ٹیپ کی صورت میں حاصل کیں جن کا بنیادی مقصد شیعہ اور سنی کی تفریق سے بالاتر ہے۔ ان کا اصل ہدف عالم اسلام کی تقسیم ہے۔

اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے عقلیت، انصاف اور وقار کے نعرے کا حوالہ دیتے ہوئے امیر عبداللہیان نے شیعہ علماء اور مفکرین کو مشورہ دیا کہ وہ مختلف شعبوں میں نوجوانوں کی فکری اور علمی سطح کو بلند کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ 20 ملین مظلوم یمنی خواتین، بچے اور مرد بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں، کہا: ہم نے سعودی عرب کے ساتھ سیکورٹی مذاکرات کے پانچ دور کئے ہیں اور حال ہی میں ان مذاکرات کو سیاسی سطح پر منعقد کرنے کا ارادہ ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہماری جو بات چیت ہوئی ہے اور ہم نے اس بارے میں جو اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان میں سے یہ ہے کہ اب جب کہ جنگ بندی ہو چکی ہے، یمن کی انسانی ناکہ بندی اٹھا لی جائے۔ یمن میں جو خوراک اور ادویات قطرے قطرے کی صورت پہنچائی جا رہی ہیں وہ انسانی اور اسلامی اخلاقیات سے بہت دور ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر یمن کی ناکہ بندی نہیں ہٹائی گئی تو اس ملک میں جنگ بندی برقرار نہیں رہے گی۔ اس سلسلے میں یمن کی تمام جماعتوں کی سیاسی بات چیت ایک اہم مسئلہ ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button