شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کے قتل سے متعلق نیا انکشاف
شیعیت نیوز: افغانستان میں حزب وحدت اسلامی کے سربراہ نے طالبان کے ہاتھوں طالبان کے ایک سابق اور ناراض ہزارہ شیعہ کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کے قتل کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔
حزب وحدت اسلامی کے سربراہ محمد محقق نے اپنے فیس بک پیج پراس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ طالبان نے مولوی مہدی مجاہد کو ہرات کے بنیاد علاقے میں ایک کمین گاہ سے پکڑا تھا ۔ محمد محقق کے مطابق طالبان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مہدی مجاہد کو گرفتار کرنے کے بعد گولی ماری گئی ۔
اس سے قبل طالبان کی وزارت دفاع نے بدھ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کی سرحدی فورسز کی صوبہ ہرات میں فائرنگ سے شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد جاں بحق ہو گئے تھے۔
واضح رہے کہ شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا اور وہ افغانستان کے صوبہ سرپل کے شہر بلخاب سے تعلق رکھتے تھے۔
مولوی مہدی مجاہد، طالبان کی حکومت کی جانب سے شیعہ ہزارہ قوم کے حقوق نظر انداز کئے جانے کے خلاف تھے اور یہی امر ان کے اور طالبان کے مابین اختلافات کا باعث بنا۔
یہ بھی پڑھیں : کابل، مسجد صدیقیہ میں شدید دھماکہ، 30 نمازی شہید
دوسری جانب افغانستان کے لیے امریکا کے سابق نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اگر اشرف غنی فرار نہ ہوتے تو طالبان کی جانب سے اقتدار میں شراکت کی امید پیدا ہوتی۔
اپنے تازہ ترین بیانات میں، خلیل زاد نے کہا کہ طالبان نے حامد کرزئی سمیت متعدد سینئر سیاستدانوں سے ملاقات کے لیے کابل میں داخل نہ ہونے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے Axios کو بتایا، "طالبان کے آنے سے پہلے ہم کسی سیاسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔”
خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان اب اقتدار میں ہیں لیکن جب تک یہ گروپ ایک جامع حکومت کی طرف نہیں بڑھتا، انہیں تسلیم نہیں کیا جائے گا اور بین الاقوامی پابندیاں نہیں اٹھائی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے طالبان کو پیغام بھیجا ہے کہ اگر دو شرائط پوری ہوئیں تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں: ’’امریکی قیدی مارک فریکس کی رہائی اور لڑکیوں کے لیے اسکول دوبارہ کھولنا‘‘۔
یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے حالیہ بیانات میں کہا تھا کہ خلیل زاد کے زیر انتظام امن عمل ایک "تباہی” تھا۔
افغانستان کے سابق صدر نے تو خلیل زاد پر اپنے جھوٹے وعدوں سے افغانستان کے سیاسی طبقے کو منتشر کرنے کا الزام بھی لگایا۔
لیکن خلیل زاد نے اشرف غنی کے ان بیانات کو بدقسمتی قرار دیا۔







