کابل، مسجد صدیقیہ میں شدید دھماکہ، 30 نمازی شہید
شیعیت نیوز: شمالی کابل میں واقع مسجد صدیقیہ میں ہونے والے شدید دھماکے میں 30 نمازی شہید ہوگئے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
مسجد صدیقیہ میں دھماکہ نماز کی ادائیگی کے دوران ہوا۔ دھماکے کے بعد طالبان کی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ شہداء و زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ شمالی کابل میں زور دار دھماکے کی آواز میں سنی گئی جس سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 30 افراد شدید زخمی ہیں۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ دھماکہ مسجد صدیقیہ کے اندر ہوا، دھماکے میں جانی نقصان ہوا ہے لیکن تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اب تک کسی بھی گروپ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں : شیعہ علماءکونسل کے مرکزی رہنما علامہ سبطین حیدر سبزواری پرتکفیری دہشت گردوں کا قاتلانہ حملہ
دوسری جانب طالبان نے فائرنگ کر کے اپنے ہی شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر کی جان لے لی۔
رپورٹ کے مطابق طالبان کی وزارت دفاع نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی سرحدی فورسز کی صوبہ ہرات میں فائرنگ سے شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد جاں بحق ہو گئے۔ تاہم ابھی تک مولوی مہدی مجاہد کے قریبی افراد نے اس حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا ہے۔
واضح رہے کہ شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے تھا اور وہ افغانستان کے صوبہ سرپل کے شہر بلخاب سے تعلق رکھتے تھے۔
مولوی مہدی مجاہد، طالبان کی حکومت کی جانب سے شیعہ ہزارہ قوم کے حقوق پر سرد مہری کے خلاف تھے اور یہی امر ان کے اور طالبان کے مابین اختلافات کا باعث بنا۔
افغانستان میں 15 اگست 2021 کو طالبان کی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے چند ماہ بعد طالبان اور شیعہ ہزارہ طالبان کمانڈر مولوی مہدی مجاہد کے مابین اختلافات بڑھ گئے اور پھر نوبت جھڑپوں تک پہنچ گئی جس میں کئی افراد جاں بحق ہو گئے اور صوبہ بلخاب کے سیکڑوں مکین اس صوبے کو ترک کرنے پر مجبور ہوئے۔







