صہیونی امداد سے چلنے والے ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کلوزاپ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ممنوع ہے
شیعیت نیوز: سپاہ پاسداران کے اینٹلیجنس ادارے نے اعلان کیا ہےکہ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کلوزاپ گرین ہاؤس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ممنوع ہے۔
مذکورہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام آرٹسٹوں اور خاص طور پر ڈاکیومنٹریز بنانے والوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ڈاکیومنٹری بنانے کے حوالے سے سرگرم کلوزاپ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ایک صہیونی ادارہ ہے جو غاصب اسرائیل کی مادی اور معنوی امداد و حمایت سے کام کر رہا ہے۔
ادارہ اس سے پہلے گرین ہاوس کے نام سے کام کر رہا تھا۔ اس کے پس پردہ حامیوں کی حقیقت فاش ہوگئی ہے جبکہ اس نے مسلمان ملکوں میں موجود حساسیت سے بچنے کے لئے اپنی رجسٹریشن تل ابیب سے بروکسل منتقل کردی ہے۔
لہٰذا ایرانی شہریوں کا اس صہیونی ادارے کے ساتھ ہر قسم کا تعاون ممنوع ہے اور اس کے ساتھ کام کرنے والوں سے اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین کے مطابق اور قانونی ذرائع سے نمٹا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : خدام زائرین پاکستان کے وفد کی سربراہ شیعہ علماءکونسل علامہ ساجد علی نقوی سے ملاقات
دوسری جانب ایرانی عدلیہ کے ڈپٹی سیکرٹری برائے بین الاقوامی امور اور انسانی حقوق کونسل کے سربراہ نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ ایرانی شہریوں کی عدم انصاف پر مبنی گرفتاری کا خاتمہ دے اور ان کو رہا کرے۔
ارنا رپورٹ کے مطابق، "کاظم غریب آبادی” نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں مزید کہا کہ "امریکہ نے دسیوں ایرانی شہریوں کو امریکی ظالمانہ اور غیر انسانی پابندیوں کی خلاف وزی کے بہانے سے گرفتار کرلیا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ "حالیہ دنوں میں گرفتار کیے گئے دو ایرانی شہری "سرہنگ پور” اور عطار کاشانی” ہیں؛ تمام بے گناہ قیدیوں کی فوری طور پر رہا کر دینی ہوگی۔
غریب آبادی نے اس بات پر زور دیا کہ "سرہنگ پور کو غیر انسانی صورتحال میں رکھا گیا ہے”؛ وہ امریکہ میں مقیم نہیں ہے اور انہیں اس اپارٹنمٹ کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے جس میں وہ بند ہے۔ ان کو ضروری طبی خدمات کی رسائی حاصل نہیں ہے اور انہیں اپنے علاج کے سنگین اخراجات کو خود ادا کرنا پڑتا ہے؛ یہ ایک ظالمانہ اقدام ہے۔






