ایران

تمام ملکی ادارے اربعین کو عظیم الشان طریقے سے منعقد کرنے کے لئے سرگرم عمل رہیں، رئیسی

شیعیت نیوز: ایران کے صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے کابینہ کے جلسے میں اربعین کے عظیم الشان عوامی اجتماع میں عوامی صلاحیتوں سے بھرپور استفادے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تمام سرکاری ادارے عوام کی اربعین میں شرکت کو آسان بنانے کے لئے اپنے فرائض پر پوری قوت کے ساتھ عمل پیرا رہیں اور عوامی رضاکار اداروں کو اپنا مددگار سمجھیں۔

سید ابراہیم رئیسی نے تمام ضروری انتظامات کی پیشگی طور پر بندوست کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اربعین کا اجتماع عظیم الشان طریقے سے منعقد ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ تمام ادارے اربعین کی زیارت کے لئے سہولیات پہنچانے کے لئے جہادی انداز میں سر گرم عمل رہیں خواہ یہ کام عراق کے ساتھ سفارتی مشاورت کی صورت میں ہو یا ضروری انتظامات کا بندوبست ہو۔

انہوں نے اس ضمن میں تمام صوبوں کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ صوبائی سطح پر سرگرم عوامی اور جہادی گروہوں کی حمایت اور ان سے تعاون کرتے ہوئے اربعین کے سلسلے میں ان گروہوں کی عظیم صلاحیت سے فائدہ اٹھائیں۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب نے ایک شیعہ خاتون کارکن سلمی الشہاب کو 34 سال قید کی سزا سنادی

دوسری جانب ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ نے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی دنیا میں قوموں کی طاقت کی علامت بن گئی ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ دنیا میں طاقت کے عناصر اور سماجی سرمائے کو ایک ساتھ ملا کر دیکھا جاتا ہے جس میں آج ایٹمی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوشی کی بات ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران پاس کیے جانے والے پارلیمانی قوانین کے نتیجے میں، ایٹمی مذاکرات میں ایران کا پلڑا بھاری ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایران ہے جو دیگر فریقوں سے ایٹمی معاہدے کی پاسدارای اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ نے ، آئی آرسکس اور آئی آر ون قسم کی جدید ترین اور ترقی یافتہ سینٹری فیوج مشنینوں سے کام لینے اور ملک میں یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافے کی خبر دی تھی ۔ اس اقدام کا مقصد پارلیمنٹ کے پاس کردہ بل کے مطابق، یورینیم کی سطح کو ایک سو نوے سیپریٹنگ یونٹ تک پہنچا نا ہے جو ملکی ضرورت کی کم ترین سطح ہے۔

مغربی ملکوں کی وعدہ خلافی کے بعد ایران کی پارلیمنٹ نے یکم دسمبر دوہزار بیس کو پابندیوں کے خاتمے اور قومی مفادات کے تحفظ کا بل پاس کیا تھا جو پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے ایران کے پختہ عزم کی علامت ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button