آل سعود کی جیلوں میں زیر حراست خواتین اور ان کے اہل خانہ تشدد کا شکار

16 اگست, 2022 03:34

شیعیت نیوز: ایک سعودی سماجی کارکن نے آل سعود کی طرف سے ایک مخصوص انداز میں زیر حراست خواتین اور ان کے اہل خانہ پر تشدد کے بارے میں خبر دی۔

سعودیات معتقلات کے صفحے کی طرف سے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں، سعودی سماجی کارکن ندا الصفار نے آل سعود کی جیلوں میں زیر حراست خواتین اور ان کے اہل خانہ پر کیے جانے والے تشدد کے کچھ پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے اندر زیر حراست افراد کے خلاف جو وحشیانہ تشدد کیا جاتا ہے اس کا ذکر کرنے سے انسان کی روح کانپ جاتی ہے، اس کے علاوہ ان زیر حراست افراد کے اہل خانہ کے خلاف ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی اذیتیں بھی استعمال کی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس ملک میں زیر حراست افراد کے اہل خانہ جب اپنے پیاروں کی صورتحال جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں سعودی سیکورٹی اداروں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیر حراست افراد اور ان کے اہل خانہ کومختلف اداز سے سزائیں دی جاتی ہیں اور بدقسمتی سے تشدد کرنے والے مکمل طور پر سعودی حکمرانوں کے تحفظ میں ہیں اور اپنے من مانے طریقہ سے ان افراد کو اذیتیں پہنچاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : محمد بن سلمان کے بیرون ملک اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے 24 ملین ڈالر مخصوص

دوسری جانب ایک صہیونی سیاح اپنی گاڑی کے ساتھ متحدہ عرب امارات سے مقبوضہ فلسطین جانے کا ارادہ رکھتا ہے جو راستے میں سعودی عرب اور اردن کے بعض شہروں سے گزرے گا۔

عبرانی اخبار یروشلم پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ کہ اسرائیلی سیاح بروس گوروین نے اپنے یونانی دوست کے ساتھ زمینی سفر کا فیصلہ کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات سے سعودی عرب کے ریاض، جدہ اور العلا نیز اردن کے شہر عقبہ سے گزرتے ہوئے مقبوضہ فلسطین کا سفر کیا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ میں 1997 سے دنیا کے اس حصے میں کام کر رہا ہوں اور خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی کمپنیوں کی مدد کر رہا ہوں، اس صہیونی سیاح نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ میں پچھلے ایک سال سے کوشش کر رہا ہوں اور ممکن ہے کہ صحرائی زراعت اور فوڈ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اس علاقے میں منتقل کرنے میں مدد کروں۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان کا ایک منصوبہ اسرائیلی زرعی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سعودی مارکیٹ میں داخل ہونے میں مدد فراہم کر رہا ہے،میں اسرائیلیوں کو سعودی عرب، اس کے صحراؤں، اس کے پہاڑوں اور اس کی حیرت انگیز تاریخ کا حیرت انگیز پہلو دکھانے کی امید کرتا ہوں، گورون نے اپنے سفر کے دوران ویڈیوز اور تصاویر آن لائن پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں اس ملک میں 20 سال سے سفر کر رہا ہوں، لیکن میں نے ابھی تک ان تمام خوبصورتیوں اور مقامات کی تصویریں نہیں بنائی ہیں۔

9:14 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top