چار دیواری میں منعقدہ عزاداری کو روکنا غیر آئینی اقدام ہے، علامہ عارف حسین واحدی
شیعیت نیوز: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے سیکرٹری مرکزی محرم الحرام کمیٹی شیعہ علماء کونسل پاکستان سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، علامہ فرحت عباس جوادی، مولانا رضوان علی گردیزی، سید محمد علی کاظمی، نیئر اقبال بلوچ، سید فرید حسین شاہ، سید نیئر عباس نقوی، آصف مغل، سید محمود نقوی و دیگر علماء کرام و عہدیداران و کارکنان کے ہمراہ مرکزی جلوس علم و ذولجناح، تعزیہ اسلام آباد میں شرکت کی اور اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں عزاداری محدود کرنے، روکنے یا خوف و ہراس پھیلانے کے اقدامات قابل قبول نہیں۔ آئین کے مطابق عزاداری سید الشہداء شہری آزادیوں کا مسئلہ ہے، پاکستان کے آئین کے مطابق تمام مکاتب فکر کو اپنے اپنے عقائد کے مطابق شہری آزادیوں سے استفادہ کرتے ہوئے عبادات اور رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر نواسہ رسول کا غم منا رہے ہیں، اس لئے کہ نواسہ رسول اُمت میں نکتہ وحدت ہیں، امام حسینؑ محور محبت ہیں، امام حسینؑ معیار ہیں اس امن بھائی چارہ، سلامتی اور اتحاد اُمت کا۔
یہ بھی پڑھیں: شیعہ لاپتہ افراد کیلئے آواز بلند کرنا جرم بن گیا، مرکزی جلوس کراچی میں تقریر کرنیوالے نوجوان کی گرفتاری کی کوشش
انہوں نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور بچوں و اصحاب کی قربانی دیکر اسلام کو بچایا لیکن حسب روایت محرم سے پہلے علماء کرام پر پابندی لگانا عزاداری کو محدود کرنے کی کوشش ہے اور سیکورٹی کے نام پر عزاداروں و منتظمین کو بے جا تنگ کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس قسم کے خوف و ہراس کے ماحول کو پیدا کرکے عزاداری سید الشہداء کو متنازعہ بنانے کی کسی بھی منفی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ ہم نے اس ملک میں اتحاد و وحدت کی بات کی اور علامہ سید ساجد علی نقوی کا ملک میں امن کو قائم رکھنے میں ایک کردار ہے، جسے تمام مسالک کے جید علماء کرام تسلیم کرتے ہیں۔ کسی بھی مکتب کی توہین کی اجازت ہم نہیں دینگے۔ علامہ عارف واحدی نے محرم الحرام میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے مطابق تمام مکاتب فکر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اپنے عقائد کے مطابق آزادی کے ساتھ عبادات اور رسومات ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ عزاداری کے حوالے سے ایک پلاننگ کے ساتھ آئین پاکستان کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہری آزادی کو پامال کیا جارہا ہے اور عزاداری سید الشہداء کو محدود کرنے کی کوشش نمایاں دکھائی دے رہی ہیں، جس سے عوام میں اشتعال پیدا ہو رہا ہے۔ علامہ عارف واحدی نے اسرائیل کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں پر حملوں اور بھارت کی جانب مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم اور سرینگر میں آٹھویں محرم کے جلوس پر بے جا تشدد کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو اسرائیل اور بھارت پر دباؤ بڑھانا چاہیے اور عالم اسلام کو بھی مظلوم مسلمانوں پر تشدد رکوانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے چاہیے۔ آخر میں انہوں نے شرکاء جلوس، ماتمی دستوں، سبیل لگانے والوں، پر امن ماحول برقرار رکھنے والی انتظامیہ و قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کوریج کرنے والے میڈیا ورکرز کے مثبت کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم اتحاد اُمت کے قائل ہیں اور میڈیا کے ذریعے پیغام دیتے ہیں کہ اشتعال پیدا کرنے والوں کی شدید مذمت کریں گے اور ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔







