اسرائیلی فوج نے اغوا کی وحشیانہ سرگرمیاں شہروں اور دیہات میں جاری رکھیں
شیعیت نیوز: اسرائیلی قابض فوج نے فلسطینی شہریوں کے اغوا کے لیے جمعرات کے روز بھی اپنی وحشیانہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس دوران صرف مغربی کنارے کے بہت سے گھروں میں چھاپے مار کر متعدد فلسطینیوں کا اغوا کر لیا ۔
مغربی کنارے کے مقامی ذرائع کے مطابق قابض فوج نے وحشیانہ سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے بیت لحم شہر سمیت صوبے کے دوسرے علاقوں پر چڑھائی کر کے تین فلسطینیوں کو اغوا کیا۔ چھاپے کے دوران کئی گھروں کے دروازے توڑ کر زبردستی گھروں میں گھس گئی۔
فلسطینیوں کے مکانات اور گھروں میں زبردستی گھسنے کے زیادہ تر واقعات جبل الموالح کے علاقے میں ہوئے، یہ علاقہ سنٹرل سٹی اور ضلع بیت لحم میں واقع ہیں۔ تاہم بعد میں اندازہ ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج یہاں صرف ڈرانے اور دھمکانے کے حربے کے لیے گھروں میں گھسی تھی کیونکہ ان علاقوں سے کسی کو اٖغوا کیا نہ گرفتار کیا ۔تاہم الخلیل کے علاقے میں اسرائیلی قابض فوج نے ایک نوجوان فلسطینی کو اغوا کر لیا اغوا کر لیا۔
یہ واقعہ سیلۃ الحارثیہ میں ہوا، جہاں قابض فوج مغوی فلسطینی کی کار بھی ضبط کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی قابض فوج نے علاقے کے دیہات طعینک ، رمانہ، عین اور طیبہ میں اپنی نفری کی موجودگی بڑھادی تھی۔
اسی طرح قابض فوج نے نابلس شہر سے بھی دو نوجوانوں کو اغوا کیا ہے۔ جبکہ ایک اور نوجوان کو نور شمس پناہ گزیں کیمپ طولکرم سے اغوا کیا۔
یہ بھی پڑھیں : صہیونی دشمن کو فلسطینی قوم کو نقصان پہنچانے سے روکا جائے، اسماعیل ہنیہ
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز زیر محاصرہ شہر غزہ کے ارد گرد فوجی نفری بڑھاتے ہوئے چوتھے روز بھی عملا ہائی الرٹ کی پوزیشن قائم رکھی۔ غزہ کے سرحدی اور ساحلی علاقے میں اس طرح کی ہائی الرٹ پوزیشن مسلسل چار دن سے جاری ہے۔
خبر رساں ادارے صفا کے مطابق غزہ کے گرد و نواح میں قابض فوجیوں کے ہائی الرٹ میں ایک دن کا مزید اضافہ کر دیا گیا تھا۔ اس توسیع کی وجہ سکیورٹی کا از سر نو جائزہ لینا تھا۔ اسی سلسلے میں ساحلی علاقے میں مچھلیاں پکڑنے پر پابندی لگانے کے علاوہ غزہ کے نزدیک سے گذرنا بھی روک دیا تھا۔
جمعرات کے روز ٖ اسرائیل کے وزیر خارجہ نے غزہ کے جنوب میں سیکیورٹی کی صورتحال پر اسرائیلی حکام کے ساتھ مشاورت کی۔ وزارت خارجہ کے دفتر نے اس موقع پر کہا ہے کہ حکام کے ساتھ اس امر پر اتفاق ہوا ہے کہ آج ایک بار پھر مشاورت ہوگی۔







