میں گواہی دیتا ہوں اسامہ بن لادن ، حکیم اللہ محسود اور حافظ سعید کاشیعہ نسل کشی سے کوئی تعلق نہیں، علامہ ساجد نقوی

27 جولائی, 2022 13:32

شیعیت نیوز: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملک تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے ایک جانب ملک سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہے تو دوسری جانب عوام کی شہری و مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عزاداری سید الشہداءپر ایف آئی آرز، ناجائز فور شیڈول، زبان بندیاں اور اپنے ہی ملک میں عوام کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے نوٹیفکیشن سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ موجودہ ملکی نظام دانستہ یا نادانستہ طور پر تباہی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔

جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں شیعہ علماءکونسل پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ "علماءو ذاکرین کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے واضح کیا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی موثر بنائی جائے جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق سب کو ایک ہی لاٹھی سے نہ ہانکا جائے۔ مذہبی اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے آمدہ محرم الحرام سے قبل بے جا پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عزاداری سید الشہداءپر کوئی قدغن قبول نہیں کی جا سکتی یہ عوام کا بنیادی شہری اور مذہبی حق ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابائے طالبان مفتی تقی عثمانی کالعدم ٹی ٹی پی کو منانے میں ناکام، مایوس وطن واپس پہنچ گئے

انہوں نےکہا کہ یہ صورت حال کیسے بنی میں ایک ایک لمحےسے واقف ہوں، میں حکمرانوں کی بات کرتا ہوں وہ آئے تھے ہمارے پاس ، اس بات کو سمجھ لیں ہم ایک بین الاقوامی ذمہ دار لوگ ہیں ، انہوں نے انکشاف کیا کہ مجھے اسامہ بن لادن نے نہیں مارا ، مجھے حکیم اللہ محسود نہیں مارا ، مجھے لشکر طیبہ کے حافظ سعید نہیں مارا، میری سب سے بات ہوئی ،میں نے پیغام بھیجا اسامہ بن لادن کو اس نے کہا کہ یہ ہمارا موضوع ہی نہیں ہےیہ سب کرنے والے کوئی اور لوگ ہیں جن سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے ، میں نے ایک بڑا وفد بھیجا حکیم اللہ محسود کے پاس اس نے کہا کہ ہمارا یہ مشن نہیں اگر کچھ ہماری صفوں میں گھسے ہیں تو وہ الگ بات ہے، میری ڈائرکٹ بات ہوئی لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید سے انہوں نے کہا ہم اپنے کاز کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ایسے کام کرکے۔ انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ شیعہ نسل کشی میں ملوث نہیں ، میں مسلکوں کی بات نہیں کرتا میرا مسئلہ پاکستان میں تکفیریت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: شیعہ قائدین سمیت 9 علماءو ذاکرین کی زبان بندی کا نوٹیفکیشن جاری

انہوں نے علماءو ذاکرین سمیت عوام کو ایپل کی کہ وہ ملک بھر میں عزاداری سید الشہداءکو پرامن اور بھرپور طریقے سے اتحاد و اخوت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے منائیں۔ قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی، علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، علامہ افتخار حسین نقوی،علامہ عارف حسین واحدی، علامہ محمد رمضان توقیر، علامہ شیخ شفاءنجفی، علامہ جمعہ اسدی، علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، علامہ سید ناظر عباس تقوی، شیخ مرزا علی، مفتی کفایت، زاہد علی آخونزادہ، مولانا باقر زیدی اور مولانا نثار احمد قلندری ،سربراہ منہاج الحسین علامہ محمد حسین اکبر ، مولانا باقر علی حیدری،مولانا سید باقر زیدی ، علامہ محمد جمعہ اسدی ، علامہ محمد کرار، علامہ سید اظہر عبا س شیرازی ، سید محمد نقی رضوی ،سجادہ نشین پیر سید نجف علی شاہ بلوٹ شریف، سمیت دیگر علماءکرام و ذاکرین عظام نے عزاداری سید الشہداءپر ایف آئی آرز کو غیر آئینی قرار دیتے مسترد کیا اور عزاداری بھرپور طور پر منانے کے عزم کا اظہار کیا۔ جبکہ فور شیڈول کو ظالمانہ اقدام سے تعبیر کرتے ہوئے اس اقدام کو عوام کے حقوق پر ڈالے کے مترداف قرار دیا۔

مقررین نے سابقہ حکومت کی وضع کردہ زائرین پالیسی کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس ہتھکنڈے سے عوام کو عازم زیارات مقدسہ ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔ مقررین نے نصاب تعلیم میں تبدیلیوں کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے وفاق المدارس شیعہ کی سفارشات کو بھی شامل نصاب کرنے کا مطالبہ کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر علماءو ذاکرین کی جانب سے 14 نکاتی قراردادیں بھی منظور کی گئی۔

 

8:56 شام مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔