نوری المالکی اور ہادی العامری عراق کی وزارت عظمیٰ کی نامزدگی سے دستبردار
شیعیت نیوز: آگاہ ذرائع نے عراق کے شیعہ کوآرڈینیشن فارمولا کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ نوری المالکی اور ہادی العامری عراق کی وزارت عظمیٰ کی نامزدگی سے الگ ہوگئے ہیں۔ البتہ ابھی تک کسی بھی سرکاری ذرائع نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔
عراق کے وزیراعظم کے لیے انتخابی کمیٹی میں عصائب اہل الحق کے سیکرٹری جنرل قیس الخز علی، تحریک حکمت ملی کے رہنماء سید عمار الحکیم، عراق کی مجلس اعلیٰ اسلامی کے سربراہ ھمام الحمودی اور عبد السادہ الفریجی شامل ہیں، جبکہ وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے مجوزہ امیدواروں میںحیدر العبادی، قاسم الاعرجی اور محمد شیاع السودانی کے نام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اعلان غدیر بھلانے کے سبب امت مسلمہ زوال کا شکار ہوئی، علامہ مقصود ڈومکی
دوسری جانب عراق کے صوبہ صلاح الدین اور دیالی میں داعش دہشت گردوں کے حملے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ ان حملوں میں متعدد عراقی سیکیورٹی اہلکار جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ عراق کے صوبہ دیالی اور صلاح الدین کے مطیبیجہ علاقے میں داعش دہشت گردوں نے فیڈرل پولیس کے ایک دستے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار عراقی پولیس اہلکار جاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے۔
ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ داعش دہشت گردوں نے اس حملے میں اسنائپر رائفل اور درمیانہ دوری تک نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔
واقعے کے بعد جب متعدد سیکیورٹی دستے علاقے میں داخل ہوئے تو یہ عناصر بھاگ نکلے۔ دہشت گردوں کے زخمی ہونے یا ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مطیبیجہ علاقے کو دسترسی کے لحاظ سے انتہائی خطرناک قرار دیا جاتا ہے جسے مقامی باشندوں نے امارت شر کا نام دے رکھا ہے۔
صوبہ دیالی، کرکوک اور صلاح الدین کے مابین واقع ہے اور یہ علاقہ داعش دہشت گردوں کے گڑھ میں تبدیل ہوچکا ہے۔







