عراق میں سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لئے عمار حکیم کی تجویز
شیعیت نیوز: عراق کی الحکمہ پارٹی کے سربراہ سید عمار حکیم نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی تعطل کو ختم کرنے کی ذمہ داری تمام سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔
عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی نے جمعرات کو رپورٹ دی ہے کہ الحکمہ پارٹی کے سربراہ سید عمار حکیم نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک میں سیاسی تعطل کو ختم کرنے کی ذمہ داری تمام فریقوں اور سیاسی جماعتوں پرعائد ہوتی ہے، ایک بار پھر عراق میں ایک ایسی لائق اور مخلص حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا جو اپنا حصہ مانگنے اور منصب پرستی کی خواہش سے پاک ہو ۔
سید عمار حکیم نے پیٹریاٹیک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ملاقات میں کہا کہ لائق قومی حکومت کا ڈھانچہ ایسا ہونا چاہئے جس پر ملت عراق کو تمام میدانوں میں اعتماد ہو۔
عراق کی الحکمہ پارٹی کے سربراہ نے کرد سیاسی گروہوں سے اپیل کی کہ وہ بعد کے مرحلےمیں صدر کے نام کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کریں کیونکہ یہ مسئلہ حکومت کی تشکیل اور سیاسی تعطل کو ختم کرنے میں اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران خطے کا ایک فعال اور اہم ملک ہے، عراقی صدر برہم صالح
دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ کی سیکورٹی کمیٹی کے سابق رکن نے آئندہ چار برسوں میں داعش کی چوتھی نسل کے پنپنے کی بابت سخت خبردار کیا ہے۔
المعلومہ کی رپورٹ کے مطابق عراقی پارلیمنٹ کی سیکورٹی کمیٹی کے سابق رکن ایوب الربیعی نے کہا ہے کہ الہول کیمپ کا خطرہ کئی پہلوؤں سے اہمیت رکھتا ہے مگر اہم ترین خطرے کی بات یہ ہے کہ اس کیمپ میں نو سے بارہ ہزار نوجوان موجود ہیں جن کے ذہنوں میں تکفیریت اور انتہا پسندی بھری جا رہی ہے اور ان کی ذہنیت تبدیل کئے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
الربیعی نے شام میں اس کیمپ کے وجود کو اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس سے عراق کی سیکورٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ مغربی ممالک اس کیمپ کی حمایت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں علاقائی سطح پر عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔







