ایران کا عراقی بعثی حکومت کے دور میں کیمیائی حملوں کے ملوث عناصر کو سزا دینے کا مطالبہ

17 جولائی, 2022 02:26

شیعیت نیوز: جینوا میں تعینات ایران کے سفیر اور مستقل مندوب نے عراقی بعثی حکومت کے دور میں کیمیائی حملوں کے ملوث عناصر اور مشیروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

یہ بات اسماعیل بقایی ہامانہ نےکل بروز ہفتہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 50ویں اجلاس کے موقع پر کہی۔

انہوں نے ایرانی علاقے سردشت پر عراقی بعثی حکومت کے کیمیائی حملے کی 35 ویں برسی کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے عراق کے سابق آمر حکمران صدام حسین کے دور میں ایران کے خلاف کیمیائی حملوں کے ملوث عناصر اور مشیروں کو سزادینے کی اپیل کی۔

بقایی ہامانہ نے اس اجلاس کے آغاز میں سردشت کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے طب اور علاج کے شعبے میں امریکہ کی غیر انسانی پابندیوں کو سردشت حملوں کے متاثرین کے ساتھ بہت ناانصافی قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران امریکہ، جرمنی اور ہالینڈ نے صدام کی حکومت کو کیمیائی ہتھیاروں سے لیس کرنے میں حمایت کی۔

یہ بھی پڑھیں : رہبر انقلاب اسلامی نے نگہبان کونسل کے تین فقہاء کو ایک نئے ٹرم کے لیے منصوب کیا

ایرانی سفیر نے کیمیائی حملوں کے متاثرین اور پسماندگان کے حقوق کے حصول کے لیے تعاون کو تمام حکومتوں کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھا اور کہا کہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانا اور سزا دینا سب کا فرض ہے۔

واضح رہے کہ اس نشست میں ایران کے شہر سردشت پر کیمیائی حملوں میں کے متاثرین کے انٹرویو اور تاثرات پر مشتمل چند ایک ویڈیو کلپ بھی حاضرین کو دکھائی گئی۔

ان انٹرویوز سے ، کیمیائی حملوں کے متاثرین کے دکھ درد نیز امریکی پابندیوں کی وجہ سے لازمی داؤں اور میڈیکل آلات کے حصول میں پیش آنے والی دشواریوں کی نشاندھی ہوتی ہے۔

یہاں اس بات کی یاد دہانی ضروری ہے کہ اٹھائیس جون انیس سوستاسی کو اس وقت کے عراقی ڈکٹیٹر صدام نے شمالی ایران کے شہرسردشت کے چار گنجان آبادی والے علاقوں پر کیمیائی بم برسائے تھے۔

اس بزدلانہ اور ظالمانہ حملے میں ایک سو انیس عام شہری شہید اور آٹھ ہزار سے زائد افراد ان بموں سے پھیلنے والی زہریلی گیس سے بری طرح متاثر ہوئے تھے اور سیکڑوں افراد آج بھی مختلف طرح کی مشکلات اور بیماریوں کا شکار ہیں۔

2:55 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top