روس یوکرین جنگ طویل ہوسکتی ہے، نیٹو سربراہ کا انتباہ

22 جون, 2022 02:47

شیعیت نیوز: نیٹو سربراہ ینس اسٹولٹن برگ نے خبر دار کیا ہے کہ یوکرین کی جنگ اگلے کئی برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل ینس اسٹولٹن برگ کا جرمن اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں اس حقیقت کے لیے تیاری کرنی چاہیے کہ اس جنگ میں برسوں لگ سکتے ہیں۔

نیٹو سربراہ کا یہ بیان ایسے میں سامنے آیا ہے جب یورپی کمیشن کی جانب سے یوکرین کو یورپی یونین کے امیدوار کا درجہ دینے کی تجویز کے بعد روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دیے۔

روسی حکام بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں یوکرین میں امریکہ اور یورپ کی نیابت میں لڑی جانے والی جنگ کا سامنا ہے ۔ روس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ نیٹو کی جانب سے یوکرین کی حمایت سے روس کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی جنگ یوکرین میں براہ راست مداخلت سے گریز کر رہے ہیں تاہم دنیا بھر سے جنگجو، ہتھیار اور ایندھن کی سپلائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ سقوط کے دھانے پر ہے، مغربی ذرائع ابلاغ

دوسری جانب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے دعوی کیا ہے کہ روس ، یوکرین کی اناج کی ترسیل کا راستہ روک کر اور اپنی برآمدات میں پابندیاں لگا کر دنیا کو قحط کے خطرے سے دوچار کررہا ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے اپنے آفیشل بلاگ پر ایک آرٹیکل میں لکھا کہ ہم اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ ہمارے شرکاء عالمی فوڈ سیکیورٹی کے خطرے کے اثرات سے بچ سکیں۔

جوزف بورل نے کہا کہ روس نے بحیرہ اسود کو ‘وار زون’ میں تبدیل کر دیا ہے اور یوکرین سے کھاد اور اناج کی ترسیل کو روک رہا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ روس اپنے اناج کی برآمدات پر ٹیکسز اور کوٹہ بھی عائد کر رہا ہے۔

جوزف بورل نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سےعائد پابندیاں روس کی زرعی مصنوعات کی برآمدات پر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ یوکرین کو جہاز کے ذریعے برآمدات کی اجازت دی جائے۔

جوزف بورل نے کہا کہ ہم اس مسئلے پر اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

11:15 شام مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔