لاہور میں عزاداری روکنے کی سازش، ن لیگی حکومت کا تاریخی عزائی نثار حویلی پر قبضے کا منصوبہ
شیعیت نیوز: لاہور میں عزاداری روکنے کی سازش یا کوئی اور منصوبہ؟ حکومت نے اندرون شہر میں عزداری کے مراکز کو سرکاری تحویل میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق لاہور والڈ سٹی اتھارٹی نے تاریخی ورثے کی حامل قدیمی عمارتوں کو اپنی تحویل میں لینے کی تمام تر تیاری مکمل کر لی ہے۔
انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق اندرون لاہور سے جو تاریخی عمارتیں سرکاری تحویل میں لی جا رہی ہیں، ان میں عزاداری کے مراکز نثار حویلی، حویلی واجد علی شاہ اور الف شاہ حویلی بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امت مسلمہ کے ٹھیکیدار متحدہ عرب امارات اور دہشتگرد مملکت اسرائیل کےدرمیان فری ٹریڈ کا معاہدہ
ذرائع کے مطابق دیگر تاریخی عمارتوں میں نوری بلڈنگ، گورودوارہ جنم استھان، سمادھی بھائی منی سنگھ، بولی باغ، گورنمنٹ رنگ محل سکول، جین ہال، قمر منزل، ڈپٹی ہاوس، شمشیر سنگھ حویلی، حویلی واجد علی شاہ، تحصیل حویلی، الف شاہ حویلی، مخزن العلوم بلڈنگ، خلیفہ منزل، سبیل والی گلی، مکان نمبر 1088 اور مکان نمبر 687 شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وی سی بلتستان یونیورسٹی کو بلتستان کے امن کو تباہ کرنے کیلئے لانچ کیا گیا ہے، وزیر زراعت کاظم میثم
ذرائع نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ تاریخی عمارتیں حکومت اپنی تحویل میں لیتی ہے تو اس سے یہ حکومتی صوابدید ہو گی کہ وہ یوم عاشور، یوم علیؑ سمیت دیگر عزداری کے جلوس برآمد ہونے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں، جبکہ مقامی افراد نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ سیاحوں کی ان تاریخی عمارتوں مین آمد کے باعث مجالس بھی منسوخ کروائی جائیں گی۔ مقامی لوگوں نے اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ لاہور والڈ سٹی اتھارٹی باقی تاریخی عمارتوں کو اپنی تحویل میں لے لے لیکن عزاداری کے مراکز کو کسی طور بھی سرکاری تحویل میں نہیں دیں گے۔







