ایرانی فوجی کمانڈروں کا خرمشہر کی سالگرہ کی مناسبت سےامام خمینی کی امنگوں سے تجدید عہد
شیعیت نیوز: خرمشہر کی آزادی کی سالگرہ کی مناسبت سے ایران کی مسلح افواج کے سینیئر کمانڈروں نے ایران کے بانی امام خمینی رح کے مزار پر حاضری دی اور پھول نچھاور کرتے ہوئے ان کی امنگوں سے تجدید عہد کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس موقع پر ایرانی فوج کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر ایڈمیرل حبیب اللہ سیاری نے کہا کہ دشمن نے اس منصوبے کے ساتھ ایران پر حملہ کیا تھا کہ وہ ایک دن میں خرمشہر اور ایک ہفتے میں ایران کو فتح کرلے گا مگر خرمشہر کی آزادی مثالی کارنامہ بنی اور دشمن کے منصوبے پر پانی پھر گیا۔
انھوں نے بیت المقدس نامی فوجی کارروائی کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج کی اس کارروائی میں صدامی فوج کے سولہ ہزار اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ انیس ہزار کو قیدی بنا لیا گیا اور اس فوجی کارروائی نے دشمن کی فوج کو ناکوں چنے چبوادیئے۔
واضح رہے کہ تین خرداد مطابق چوبیس مئی کی تاریخ ایران کے جنوب مغربی شہر خرمشہر کی آزادی کی سالگرہ سے مناسبت رکھتی ہے جسے پانچ سو اٹھہتر دن کے بعد ایرانی مسلح افواج نے سن انیس سو بیاسی میں آزاد کرایا تھا۔
تین خرداد دشمن کے قبضے سے سرزمین وطن کی آزادی کے لئے سپاہ پاسداران اور رضاکار فوج کے ساتھ بحریہ کے جوانوں کی استقامت و پائیداری اور فتح و کامیابی کا ایک بہترین جلوہ ہے ۔
یہ بھی پڑھیں : پاسبان حرم حسن صیاد خدائی کی تشییع میں دسیوں ہزار افراد کی شرکت
دوسری جانب ایرانی عدلیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سپاہی حسن صیاد خدایی کے قتل کے مجرموں کو سخت سزا دی جائے گی۔
یہ بات مسعود ستایشی نے منگل کے روز اپنی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہم ایک عظیم شہید سے محروم ہو گئے ہیں اور ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے دشمنوں نے اپنی خبیث فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں ایک ایسے عزیز سے جدا کر دیا جو مزاحمت کا مظہر تھا۔
ستایشی نے کہا کہ ہم زبردستی، درستگی اور خصوصی توجہ کے ساتھ ان لوگوں کو سزا دیں گے جنہوں نے اس قتل کا ارتکاب کیا۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگجو ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ خدا اور پوری دنیا کے سامنے توبہ کریں گے، گزشتہ دہائیوں کے دوران ایرانی عوام نے دہشت گردوں کے متعدد جرائم کا مشاہدہ کیا ہے۔
انہوں نے احمد رضا جلالی کے تبادلے اور حمید نوری کے تبادلے کی قیاس آرائیوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جلالی کے تبادلے کو ختم کر دیا جاتا ہے۔







