آزاد جموں کشمیر سے جبری لاپتہ شیعہ جوانوں کی بازیابی کیلئے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن کا اعلان

21 مئی, 2022 00:12

شیعیت نیوز: دارالحکومت مظفرآباد سے لاپتہ ہونیوالےشیعہ نوجوان تا حال بازیاب نہ ہو سکے، پندرہ دنوں سے لاپتہ نوجوانوں کے والدین غم سے نڈھال، وزیراعظم آزادکشمیر، چیف سیکرٹری، آئی جی پی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے نوجوانوں کی بازیابی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا،

دارلحکومت مظفرآباد، باغ، کوٹلی، نیلم،ہٹیاں بالا اور میرپورکے مختلف علاقوں میں جمعہ کے اجتماع کے بعد احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ریاست آزادجمون وکشمیر کا ایک خاص تشخص جس کی آئینی اور قانونی حیثیت ہے کے اندر کمیونٹی کے عام نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر بغیر کسی جرم کے اٹھایا جانا ایک ریاستی المیہ ہے جس کے بعد ریاستی اداروں کی رٹ اور حیثیت پر بہت سارے سوال اٹھ رہے ہیں،

ممتاز کشمیری رہنماء مفتی سید کفایت حسین نقوی کی جمعۃ المبارک کے مرکزی اجتماع سے خطاب۔تفصیلات کے مطابق دارلحکومت مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں فرحان علی چغتائی، طیب علی سبزواری اور ابن الحسن سبزواری کو لاپتہ ہوئے دو ہفتے گزر گئے، متعلقہ تھانہ جات میں با ضابطہ ایف آئی آر کٹوانے کے باوجودوالدین ریاستی اداروں میں ٹھوکریں کھانے پر مجبور مگر ان کی کوئی شنوائی نہ ہو سکی،

یہ بھی پڑھیں:

گزشتہ روز ریاستی دارلحکومت مظفرآباد سمیت ہٹیاں بالا، نیلم، باغ،کوٹلی، میرپور و دیگر علاقوں میں لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کے لئے احتجاج ریکارڈ کروائے گئے، دارلحکومت مظفرآباد میں مرکزی امام بارگاہ پیر سید علم شاہ بخاری میں جمعۃ المبارک کے اجتماع کے بعد احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے سینئر ممبر اسلامی نظریاتی کونسل آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر مفتی سید کفایت حسین نقوی کا کہنا تھا کہ ریاست آزادجموں وکشمیر کا ایک خاص تشخص جس کی آئینی اور قانونی حیثیت ہے کے اندر کمیونٹی کے عام نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر بغیر کسی جرم کے اٹھایا جانا ایک ریاستی المیہ ہے جس کے بعد ریاستی اداروں کی رٹ اور حیثیت پر بہت سارے سوال اٹھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے سماج عدم تحفظ کا شکار ہو رہا ہے، اگر لاپتہ نوجوانوں کا کوئی عمل قابل مواخذہ ہے تو انتظامیہ اور عدلیہ کس مرض کی دوا ہیں، تحریک آزادی کے بیس کیمپ مظفرآباد میں لاپتہ افراد کا معاملہ نا صرف شہریان ریاست کے لئے تشویش ناک ہے بلکہ ساتھ ساتھ ریاستی اداروں کے اختیارات کو چیلنج کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔

انہوں نے ایک ہفتے کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے کہا کہ اگر لاپتہ نوجوانوں کو بازیاب نہ کیا گیا تو ہم راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے،پاکستان سے ہماری محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، قومیں محبت سے زندہ رہتی ہیں، خدارا ہماری محبت کا امتحان نہ لیا جائے، پاکستان اور پاکستانی اداروں کی ہم عزت کرتے ہیں ایسا ماحول نہ بنایا جائے کہ کشمیری نوجوانوں میں نفرت کی فضاء پروان چڑھے۔

6:58 صبح مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top